اوضح القرآن۔ قرآن مجید مترجم مع تفسیر — Page 1158
قد سمع الله ۲۸ ۱۱۵۸ المجادلة ٥٨ وَلَدْنَهُمْ ۖ وَإِنَّهُمْ لَيَقُولُونَ مُنْكَرًا ان کو جنا ہے اور تحقیق وہ بولتے ہیں جھوٹی بات اور ناپسند۔بے شک اللہ البتہ معاف مِنَ الْقَوْلِ وَ زُورًا وَاِنَّ اللهَ کرنے والا غفور ہے۔لَعَفُوٌّ غَفُورٌ وَالَّذِينَ يُظهِرُونَ مِنْ نِسَآبِهِمْ ثُمَّ ۴- جو لوگ اپنی بیبیوں سے ظہار کر بیٹھیں ۴۔يَعُودُونَ لِمَا قَالُوا فَتَحْرِيرُ رَقَبَةٍ مِنْ پھر وہ اپنے کہے سے پلٹنا چاہیں (یعنی اپنے قول سے نادم ہوں) تو ایک غلام آزاد کرنا b قَبْلِ أَنْ يَتَمَاشَا ذَلِكُمْ تُوْعَظُوْنَ بِهِ چاہئے ایک دوسرے کو ہاتھ لگانے سے پہلے۔اس بات کی تم کو نصیحت کی جاتی ہے اور تم جو وَاللهُ بِمَا تَعْمَلُونَ خَبِيرٌ کچھ کرتے ہوا اللہ اس سے خوب خبر دار ہے۔فَمَنْ لَّمْ يَجِدْ فَصِيَامُ شَهْرَيْنِ مُتَتَابِعَيْنِ -۵ پھر جو غلام کی طاقت نہ رکھتا ہو تو اسے مِنْ قَبْلِ أَنْ يَتَمَاشَا ۚ فَمَنْ لَّمْ يَسْتَطِعْ ذَلِكَ روزے رکھنا چاہئے لگاتار دو مہینے کے ایک دوسرے کو چھونے سے پہلے پھر جس سے یہ بھی فَإِطْعَامُ سِتِّينَ مِسْكِينا ذلك نہ ہو سکے تو اسے چاہئے کہ ساٹھ مسکینوں کو کھانا لِتُؤْمِنُوا بِاللهِ وَرَسُولِهِ وَتِلْكَ حُدُودُ کھلائے۔یہ اس لئے کہ تم اللہ اور اس کے رسول کو مانو سے۔یہ اللہ کی حد باندھی ہوئی ہے اور اللَّهِ وَلِلْكُفِرِينَ عَذَابٌ أَلِيمٌ انکار کرنے والوں کو ٹیں دینے والا عذاب ہے۔إِنَّ الَّذِينَ يُحَادُّونَ اللهَ وَرَسُولَهُ كُبِتُوا - جو لوگ مخالفت کرتے ہیں اللہ اور اس کے رسول کی وہ ذلیل ہوئے جیسے ذلیل ہوئے ان كَمَا كُبِتَ الَّذِيْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ ے یعنی پشت مادر کے برابر کہہ بیٹھیں۔ے یہ بھی حکم فرمایا کہ جو حد بندیوں کو توڑتے ہیں ان کو سزا دی جائے گی۔آیت نمبر ۴۔يَعُودُونَ۔اپنے کہنے سے پلٹنا چاہیں۔اہلِ ظاہر کے نزدیک یہ معنی ہیں کہ پھر وہی کہنا چاہیں جس کو پہلے کہہ چکے۔آیت نمبر ۵ - ستين مسكينًا۔ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلائیں۔متفرق یا ایک دم جس طرح بن سکے۔