اوضح القرآن۔ قرآن مجید مترجم مع تفسیر — Page 1157
قد سمع الله ۲۸ ۱۱۵۷ المجادلة ٥٨ سُوْرَةُ الْمُجَادَلَةِ مَدَنِيَّةٌ وَّ هِيَ مَعَ الْبَسْمَلَةِ ثَلاتٌ وَ عِشْرُونَ آيَةً وَّ ثَلاثَةُ رُكُوعَاتٍ بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ ا۔ہم سورہ مجادلہ کو پڑھنا شروع کرتے ہیں اُس اللہ کے نام سے جو سب واقعات کو پہلے ہی سے جانتا ہے اور عدل وانصاف سے فیصلے فرماتا ہے اور عاجزی کو بہت پسند فرماتا ہے۔قَدْ سَمِعَ اللهُ قَوْلَ الَّتِى تُجَادِلُكَ فِي ٢۔اللہ نے سن لی اس عورت کی بات جو اپنے ۲۔زَوْجِهَا وَتَشْتَكَى إِلَى اللهِ وَاللهُ يَسْمَعُ خاوند کے بارہ میں بار بار تجھ سے جھگڑتی تھی اور اللہ کے حضور اپنے دکھڑے کا بیان کر کے کھڑی تَحَاوُرَكُمَا إِنَّ اللهَ سَمِيعٌ بَصِير روتی تھی اور اللہ سن رہا تھا تم دونوں کی گفتگو کو۔کچھ شک نہیں کہ اللہ بڑا سننے والا بڑا دیکھنے والا ہے۔الَّذِينَ يُظْهِرُوْنَ مِنْكُمْ مِنْ نِسَآبِهِمْ۔جو لوگ قسم کھا بیٹھیں تم میں سے اپنی بیبیوں مَّاهُنَّ أُمَّهُتِهِمْ إِنْ أُمَّهُتُهُمْ إِلَّا إِلَّن سے ظہار کی لے وہ ان کی مائیں تو نہیں ہو جاتیں۔ان کی مائیں تو وہی ہیں جنہوں نے اظہار یعنی پشت مادر کے برابر کہہ بیٹھو۔آیت نمبر ۲۔تُجَادِلُک۔تجھ سے جھگڑتی تھی۔چونکہ لوہے کی ضرورت پیدا ہو چکی ہے مگر پہلے مدینہ کا انتظام ضروری ہے اور جھگڑے ہمیشہ جزئیات سے پیدا ہوتے ہیں اس لئے وہ بھی مد نظر ہیں اور ان کا تصفیہ بھی فرمایا جاتا ہے۔تَحَاوُرَكُمَا تم دونوں کی باتیں۔یعنی خولہ بنت ثعلبہ کو ان کے شوہر اوس بن صامت نے ناراضگی میں یہ کلمہ کہہ دیا تھا وَاَنْتِ عَلَيَّ كَظَهْرِ أُمنیٰ اور اس وقت یہ کلمہ سخت طلاق سمجھا جاتا تھا جس کے بعد ملاپ نہیں ہوسکتا تھا اس بات سے بیوی کو جو بچہ والی عورت اور شوہر سے محبت رکھتی تھی سخت رنج ہوا اور آنحضرت کی خدمت میں حاضر ہوئی اور اپنا حال زارعرض کیا کہ کیا میں اپنے شوہر سے کسی طرح مل سکتی ہوں؟ آپ نے عرب کا دستور مد نظر فرما کر کہہ دیا کہ طلاق تو ہو چکی۔یہ بات سن کر اُسے اور بھی بہت رنج ہوا اور وہ بار بار دردناک الفاظ میں جواز کی صورت پوچھتی تھی۔آخر مایوسانہ حالت میں وہ خدا کو پکارنے لگی۔یہاں تک کہ آثار وحی آنحضرت پر نمودار ہوئے۔جب وحی ہو چکی تو آپ نے اس عورت کو بلا کر کفارہ کا حکم سنا دیا اور خاوند نے کفارہ ادا کیا۔عورت اس پر مباح ہوگئی۔