اوضح القرآن۔ قرآن مجید مترجم مع تفسیر — Page 1155
قال فما خطبكم ۲۷ ۱۱۵۵ الحديد ٥٧ ثُمَّ قَفَّيْنَا عَلَى آثَارِهِمْ بِرُسُلِنَا ۲۸۔پھر ہم نے لگا تار بھیجے ان کے پیچھے ہمارے رسول اور عیسی ابن مریم کو ان کے پیچھے بھیجا اور وَقَفَيْنَا بِعِيسَى ابْنِ مَرْيَمَ وَأَتَيْنَهُ اس کو انجیل عطا فرمائی اور ان لوگوں کے دلوں الْإِنْجِيلَ وَجَعَلْنَا فِي قُلُوبِ الَّذِينَ میں جو اس کے پیرو ہوئے نرمی اور رحمت پیدا اتَّبَعُوهُ رَأْفَةً وَرَحْمَةً وَرَهْبَانِيَّةً کی۔اور گوشہ نشینی اور خیال ترک دنیا جو انہوں نے اپنی طرف سے ایجاد کر لیا تھا یہ قاعدہ ہم ابْتَدَعُوْهَا مَا كَتَبْنَهَا عَلَيْهِمْ إِلَّا نے ان پر فرض نہیں کیا تھا مگر انہوں نے اللہ کے ابْتِغَاءَ رِضْوَانِ اللهِ فَمَا رَعَوْهَا حَقٌّ خوش کرنے کے لئے خود اپنے دل سے اختیار کیا (مگر) اس کو ایسا نہ نبھایا جیسا نبھانا چاہئے تھا رِعَايَتِهَا فَاتَيْنَا الَّذِينَ آمَنُوا مِنْهُمْ پس ان میں سے جو ایمان لائے ہم نے ان کو أجْرَهُمْ وَكَثِيرٌ مِنْهُمْ فَسِقُوْنَ ) اجر دیا اور بہت سے ان میں فاسق ہی ہیں۔يَايُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللهَ وَامِنُوا ۲۹۔اے ایمان والو! اللہ سے ڈرتے رہو اور اُسی بِرَسُولِهِ يُؤْتِكُمُ كِفَلَيْنِ مِنْ رَّحْمَتِم کو سپر بناؤ اور اُس کے رسول پر ایمان لاؤ تم کو دوہرے دوہرے حصے ملیں گے رحمت کے اور وَيَجْعَل لَّكُمْ نُورًا تَمْشُونَ بِهِ عطا کرے گا تم کو ایک نور جس کے اُجالے میں آیت نمبر ۲۸ - آتَيْنَهُ الْاِنجیل۔اور اس کو انجیل عطا فرمائی۔یعنی اے محمد تیرے لئے اس میں بشارت دی۔انجیل کے معنی سریانی زبان میں بشارت کے ہیں اور فی الحقیقت موجودہ انجیل میں کچھ بھی احکام نہیں ہیں۔اس میں کچھ عیسی علیہ السلام کی سوانح اور بشارات اور وعظ ہیں۔ابْتِغَاءَ رِضْوَانِ اللهِ۔ترک دنیا اس قدر جائز ہے جو اللہ کی رضامندی کے لئے ہو اور اللہ کے کسی حکم کی خلاف ورزی اس میں نہ ہو اور ریا اور نمود نہ ہو۔فسِقُونَ۔یعنی جن نیک باتوں کا خدا اور رسول نے حکم نہ دیا ان کاموں کے کرنے والے۔بے ریا مومن صرف اللہ کو خوش کرنے والے ہی اجر کے مستحق ہیں ورنہ بہت سے فاسق ریا کار مگار ہیں۔اس سے وہ صوفیانہ زندگی جو سادہ مسلمان عاملِ قرآن و رسولِ رحمن کی زندگی کے خلاف ترک مباحات اور ترک جوائز سے اختیار کی جاتی ہے اس پر ملامت کی گئی ہے کہ اس قسم کے لوگ اعلیٰ درجہ کا تقویٰ نباہ نہیں سکتے ہیں اور اکثر فاسق و بدکار ہو جاتے ہیں اور فی الحقیقت ایسا ہی دیکھنے میں آتا ہے۔