اوضح القرآن۔ قرآن مجید مترجم مع تفسیر

Page 1153 of 1464

اوضح القرآن۔ قرآن مجید مترجم مع تفسیر — Page 1153

قال فما خطبكم ۲۷ ۱۱۵۳ الحديد ٥٧ سَابِقُوا إِلَى مَغْفِرَةٍ مِنْ رَّبِّكُمْ وَجَنَّةٍ ۲۲۔اپنے رب کی مغفرت کی طرف بڑھ جانے کی کوشش کرو اور اس بہشت کی طرف جس کی عَرْضُهَا كَعَرْضِ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ قیمت آسمان و زمین ہے۔تیار کی گئی ہے اُن b أُعِدَّتْ لِلَّذِينَ آمَنُوا بِاللَّهِ وَرُسُلِهِ لوگوں کے لئے جو اللہ اور اس کے رسول کو سچے دل ذلِكَ فَضْلُ اللهِ يُؤْتِيهِ مَنْ يَشَاءُ سے مانتے ہیں۔یہ اللہ کا فضل ہے وہ جس کو چاہتا ہے دیتا ہے اور اللہ بڑے فضل کا مالک ہے۔وَاللهُ ذُو الْفَضْلِ الْعَظِيمِ مَا أَصَابَ مِنْ مُّصِيبَةٍ فِي الْأَرْضِ ۲۳۔جو کچھ مصیبت پڑے زمین میں اور مَا تمہارے نفسوں میں وہ سب ہمارے پیدا کرنے وَلَا فِي أَنْفُسِكُمْ إِلَّا فِي كِتَبٍ مِنْ قَبْلِ سے پہلے ہی کتاب میں ہے (یعنی ہمارے علم انْ نَّبْرَاهَا إِنَّ ذَلِكَ عَلَى اللَّهِ يَسِيرُ میں) بے شک یہ اللہ پر آسان ہے۔(بقیہ حاشیہ ) جیسا بعض کم سمجھوں کا خیال ہے خلاف شرع نہ ہو تو حرام نہیں دیکھو قُلْ مَنْ حَرَّم زِيْنَةَ اللهِ الَّتِى أَخْرَجَ لِعِبَادِهِ (الاعراف: ۳۳) آتا ہے مگر اصل اسی کو نہ سمجھ بیٹھے کیا خوب کہا حضرت سعدی نے۔خوردن برائے زیستن و ذکر کردن است تو معتقد که زیستن از بهر خوردن است فریبی زندگی میں پانچ باتیں ہیں۔لعب۔لهو۔زينت۔تَفَاخُر۔تكاثر۔یہ سب متقی کی ذات کے لئے غیر مفید بلکہ مضر ہیں۔وجہ یہ کہ لعب وہ کام جس میں بلا فائدہ تکان ہوا اور لھو وہ بے حقیقت کام جس سے غفلت پیدا ہو اور وقت عزیز ضائع۔زینت ظاہری بناوٹ ، ٹیم نام ، دکھاوا غیر شرعی۔تَفَاخُر باہم شیخیاں و استکبار مکروہ۔تَكَاثُر حرص و طمع و لالچ بے جا۔آیت نمبر ۲۲۔سَابِقُوا۔اس میں اشارہ ہے کہ دین کو دنیا پر عملاً مقدم کرو۔علائق دنیوی میں پھنس نہ جاؤ۔راہ مقصود مدنظر رکھو۔آیت نمبر ۲۳۔مِنْ قَبْلِ أَنْ نَّبْرَاهَا۔ہمارے پیدا کرنے سے پہلے۔یہاں لوگوں کو شبہ ہو گا کہ ہمارے پیدا ہونے سے پہلے ہی سب فیصلہ ہو چکا ہے تو اب اس کے خلاف نہ ہوگا۔جواب یہ ہے کہ اس سے تو اللہ کا عالم الغیب ہونا ثابت ہوا نہ کہ انسان کا مجبور ہونا۔کیونکہ ہر ایک جانتا ہے کہ بدی کرنے کے وقت کوئی آکر انسان کو مجبور نہیں کرتا۔پس علم تابع معلوم ہے معلوم تابع علم نہیں۔مثلاً کوئی شخص کوئی خواب دیکھے اور وہ بجنسم ہو بھی جاوے تو نہیں کہہ سکتے کہ خواب نے واقعہ یا شخص کو مجبور کیا تھا اور لِكَيْلَا تَأْسَوا یعنی