اوضح القرآن۔ قرآن مجید مترجم مع تفسیر — Page 1147
قال فما خطبكم ۲۷ ۱۱۴۷ الحديد ٥٧ سُوْرَةُ الْحَدِيدِ مَدَنِيَّةٌ وَهِيَ مَعَ الْبَسْمَلَةِ ثَلاثُونَ آيَةً وَّاَرْبَعَةُ رُكُوعَاتٍ بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ ا۔ہم سورہ حدید کو پڑھنا شروع کرتے ہیں اس اللہ کے نام سے جس نے پہلے حدید کو پیدا کیا پھر اس کے نتائج دکھلائے۔سَبَّحَ لِلَّهِ مَا فِي السَّمواتِ وَالْاَرْضِ ۲ اللہ کی پاکی بیان کرتا ہے جو کچھ آسمان اور ۲۔زمین میں ہے اور اللہ ہی عزیز اور حکیم ہے۔وَهُوَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ ) 2 لَهُ مُلْكُ السَّمَوتِ وَالْأَرْضِ ۳۔اسی کی حکومت ہے آسمانوں اور زمین میں يُحْيِ وَيُمِيْتُ وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرُه اور وہ جلاتا ہےلے اور مارتا ہے اور وہ ہر ایک چیز کا بڑا اندازہ کرنے والا ہے۔وَالْبَاطِنُ ۚ وَهُوَ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيمٌ هوَ الْأَوَّلُ وَالْآخِرُ وَالظَّاهِرُ ۴۔وہی سب سے پہلے ہے (اس سے پہلے کوئی ۴۔نہیں ) اور وہی سب پیچھے ہے (اس سے پیچھے کوئی نہیں) وہی ظاہر ہے (اس کے اوپر کوئی نہیں) وہی باطن ہے (اُس سے چھپی ہوئی کوئی چیز نہیں ) اور وہی ہر شے کا بڑا جاننے والا ہے۔لے یہ صحابہ کے متعلق ہے۔کے دشمنوں کی ہلاکت کے متعلق ہے۔تمھید۔معلوم ہوتا ہے کہ پہلی دو سورتوں میں جس قدر پیشگوئیاں بیان فرمائی ہیں وہ اس وقت پوری ہوں گی جب حدید پر ہاتھ پڑے گا۔تو گویا پہلے پیشگوئیاں کر دی ہیں۔اب اس کے پورا ہونے کے متعلق ترتیب بتائی۔آیت نمبر ۲۔سَبَّح - تسبیح کے لفظ چار صیغوں میں قرآن مجید میں آئے ہیں۔(۱) سُبْحَانَ الَّذِي (۲) سَبَّحَ لِلَّهِ - (۳) يُسَبِّحُ لِلَّهِ - (۴) سَبِّحُ - آیت نمبر ۴۔الا ولی۔وجودی کا اعتراض اور اس کا جواب یوں دیا گیا کہ بیچ میں کیا ہے۔ہم وہ معنے کرتے ہیں جو رسول اللہ علیہ نے اس آیت شریف کے بتائے ہیں۔بِكُلِّ شَيْءٍ - وجودی دیکھیں کچھ بھی نہیں ہے تو پھر وہ علیم کس کا ہے اور اگر اپنا ہے تو دوسری عبارت ہونا چاہیے۔اس طرح کہ میں اپنی ہر ایک چیز کو جاننے والا ہوں۔تفصیل کے لئے دیکھو خط حضرت مسیح موعود بر وحدۃ الوجود وخط مولانا نورالدین صاحب مد فیضہ مندرجہ اخبار الحکم نمبر ۶ جلد ۱۰ مورخه ۲۲ رذی الحجہ ۱۳۲۳ھ ۱۷ فروری ۱۹۰۶ ء صفحہ ۷۔