اوضح القرآن۔ قرآن مجید مترجم مع تفسیر

Page 1144 of 1464

اوضح القرآن۔ قرآن مجید مترجم مع تفسیر — Page 1144

قال فما خطبکم ۲۷ ۱۱۴۴ الواقعة ٥٦ گرتی ہیں !! وَإِنَّهُ لَقَسَمٌ لَّوْ تَعْلَمُونَ عَظِيمٌ ے۔اور وہ ایک بڑی قسم ہے کاش تم جانو۔اِنَّهُ لَقُرْآنٌ كَرِيمُ فِي كِتَبٍ مَّكْنُوْنٍ لَّا يَمَسُّةَ إِلَّا الْمُطَهَّرُونَ تَنْزِيلٌ مِنْ رَّبِّ الْعَلَمِينَ ا یعنی رسول مقبول کے دل پاک کی۔۷۸۔بے شک یہ بزرگ قرآن ہے۔وے لکھا ہوا محفوظ کتاب میں۔۸۰۔اسے وہی چھوئیں گے اور سمجھیں گے جو - پاک کئے گئے ہیں۔تے ۸۱۔رب العالمین کی طرف سے اُتارا ہوا ہے۔یعنی اولیاء صد یقین پاک اور نیک سمجھ مقدس انسان ہی قرآن خوب سمجھیں گے نہ کج فہم نجس فاسق۔(بقیہ حاشیہ) ہے۔جس سے مراد انبیاء اور اولیاء کے مبارک دل ہیں جو انوار محبت کے ستاروں کے گرنے کی جائے ہیں اور بعض کے نزدیک خودستاروں سے مراد نیک لوگ ہیں جو دنیا کے اندھیرے میں راہِ رواں آخرت کے لئے ستاروں کا کام دیتے ہیں اور ان کا غروب ہونا دنیا کی تاریکی کا موجب ہے اور یہ بھی کہ جب کوئی مصلح پیدا ہوتا ہے تو اس کے ساتھ ستارے بہت گرا کرتے ہیں۔چنانچہ جب نبی کریم ﷺ مبعوث ہوئے تو آپ کے زمانہ بعثت سے پہلے بھی اور بعثت کے زمانہ میں بھی کثرت سے شہاب ثاقب گرے اور ۱۸۸۴ء میں کثرت سے شہاب ثاقب گرے کیونکہ مسیح موعود کی آمد کا وقت تھا۔النُّجُومِ۔جمع ہے نَجم کی۔جس کے معنی ہیں قسط۔چونکہ قرآن کریم تھوڑا تھوڑا نازل ہوتا رہا اس لئے اس کا نام نجوم بھی ہے۔مَوَاقِعُ النُّجُومِ وہ لوگ ہیں جو قرآن کے پڑھنے والے اور اس پر عامل ہیں۔اس پر قرآن کریم اپنی سچائی کا بیان دلیل انٹی سے پیش کرتا ہے کہ اگر قرآن کریم خدا کی طرف سے نہ ہوتا بلکہ افترا اور شیطانی خیال ہوتا تو اس کے قاری بد معاش ہونے چاہئے تھے مگر اس سے تعلق رکھنے والے تو پاک ہیں۔شیطانی باتوں سے ان کو بیزاری ہے اور ضمنا یہ بات بتائی ہے کہ جن قرآن کے ماننے والوں میں تقویٰ اور پاکیزگی اور دینداری نہ ہوگی۔وہ شیطان کے مقلد ہوں گے نہ قرآن کے مھبط۔آیت نمبر ۷۹۔کتبِ مَّكْنُونِ۔یہ بھی قرآن کے لئے ایک پیشگوئی ہے کہ یہ ہمیشہ لکھا ہو محفوظ رہے گا۔آیت نمبر ۸۰ - اَلْمُطَهَّرُونَ۔یعنی اس کے مطالب عالیہ کا سمجھنا اور حقائق حقہ کو معلوم کرنا اور اس کے پورے پورے عامل اور مظہر بننا یہ خدا کے مقدس لوگوں ہی کا کام ہے۔فقہاء نے وضو کر کے قرآن کو ہاتھ لگانے کا اس سے استدلال کیا ہے حالانکہ اس میں یہ بات نہیں ہے۔