اوضح القرآن۔ قرآن مجید مترجم مع تفسیر — Page 1138
قال فما خطبكم ۲۷ ۱۱۳۸ الواقعة ٥٦ فَأَصْحَبُ الْمَيْمَنَةِ مَا أَصْحَبُ الْمَيْمَنَةِ ۹۔ایک سیدھی طرف والی۔کیسی سیدھی طرف والی۔وَأَصْحَبُ الْمَثْتَمَةِ مَا أَصْحَبُ الْمَشْئَمَةِ ١٠۔اور دوسری ٹکڑی بائیں طرف والی (یعنی والشئون التونة أُولَيكَ الْمُقَرَّبُونَ فِي جَنَّتِ النَّعِيمِ ثُلَّةٌ مِّنَ الْأَوَّلِينَ کیا ہی بری ہے بائیں طرف والی )۔ا۔اور ایک آگے نکل جانے والوں سے بھی آگے ہے۔۱۲۔یہی لوگ مقرب ہیں۔۱۳۔نعمت کے باغوں میں۔۱۴۔ایک جماعت تو پہلوں میں سے (یعنی سیدھے ہاتھ والی )۔ا یعنی حق کے طرف دار متقی ان کا کیا ہی کہنا ہے۔یعنی کا فر مکذب منافق۔یہاں تک حسب آیت فَرِيقٌ فِی الْجَنَّةِ وَ فَرِيقٌ فِي السَّعِيرِ (الشوری: ۸) کی تقسیم ہوئی۔(بقیہ حاشیہ ) اولین و آخرین سے مراد تمام اُمت کے ابرار ہیں لیکن اولین کا مبدء یعنی جن کے واسطے سے قرب الہی کا دروازہ کھلا وہ اصحاب سید المرسلین ہیں اور آخرین کا مبدء جماعت مسیح موعود ہے۔چونکہ مسیح موعود کا دور حکم آیت وَ أَخَرِيْنَ مِنْهُمْ لَمَّا يَلْحَقُوا بِهِمُ (الجمعة : ۴ ) دور محمدی واحمدی ہے (ﷺ) اور اعادہ یعنی بعثت ثانی ہے۔اس لئے دونوں دور اولین ہی میں شامل اور ان دونوں دوران کے بعد کے لوگ آخرین اور تابعین میں شریک ہیں۔اَصْحَابُ الْمَشْمَة ایک ہی ہیں وہ خواہ بعثت اوّل کے مقابل میں ہوں یا بعثت ثانی کے یا تابعین ملتِ حقہ کے کیونکہ اَلْكُفْرُ مِلَّةٌ وَّاحِدَةً ہے اور مخالفت کے سامان ہر دو دور میں یکساں ہیں اس لئے یہ ایک ہی فکری رہی۔وَاللهُ اَعْلَمُ بِالصَّوَابِ۔آیت نمبر ۱۰ - اَصْحَبُ الْمَشْئَمَةِ - ( س ) اَصْحَبُ الْمَشْمَةِ کہا أَصْحَابُ الْمَيْسَرَةَ کیوں نہ کہا ؟ ( ج ) چونکہ اس میں یسر کا لفظ ہے اور وہ ان کو کہاں نصیب۔آیت نمبر ۱۴- ثُلَّةٌ مِّنَ الْأَوَّلِينَ۔ایک جماعت پہلوں میں سے رسول اللہ ﷺ کے صحابہ اور ان کے ساتھ والے تابعین اور اَصْحَابُ الشِّمَال کا فرو منافق اور سابقون مسیح موعود کی جماعت جو اپنے پہلے مومنوں سے سبقت لے جا کر اَصْحَابُ الْيَمِین میں جا ملے گی۔سیدھے ہاتھ والوں کی ایک یہ توجیہ بھی ہو سکتی ہے کہ وہ بلادِ مشرق کی طرف جانے والے ہیں۔