اوضح القرآن۔ قرآن مجید مترجم مع تفسیر — Page 1131
قال فما خطبكم ۲۷ فَبِأَيِّ آلَاءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّ بْنِ مَرَجَ الْبَحْرَيْنِ يَلْتَقِينِ ۱۱۳۱ الرحمر ۱۹۔تو تم اپنے رب کی کون کون سی قدرت کو جھٹلاؤ گے؟ ۲۰۔اس نے دوسمندروں کو جاری کیا ہے جو مل جائیں گے۔بَيْنَهُمَا بَرْزَخٌ لا يَبْغِين ® ۲۱۔ان کے درمیان ایک پردہ ہے جن سے وہ فَبِأَيِّ آلَاءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّ بْنِ بڑھ نہیں سکتے۔۲۲۔تو کون کون سی قدرت کو جھٹلاؤ گے؟ يَخْرُجُ مِنْهُمَا اللُّؤْلُؤُ وَالْمَرْجَانُ ® ۲۳۔ان دونوں دریاؤں سے موتی اور مونگے نکلتے ہیں۔فَبِأَيِّ آلَاءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّ بْنِ ۲۴۔پس تم اپنے رب کی کون کون سی نعمتوں سے مکرو گے؟ وَلَهُ الْجَوَارِ الْمُنْشَتُ فِي الْبَحْرِ ۲۵۔اور اسی کے واسطے ہیں جو اونچے اونچے جہاز کھڑے ہیں سمندروں میں نشانوں کی طرح۔الاعلام فَبِأَيِّ آلَاءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّ بْنِ £ ۲۶۔تو کون کون سی نعمت اور قدرت کو تم اپنے رب کی جھٹلاؤ گے؟ یہ پیشگوئی تھی جن کو آبنائے سوئز نے پوری کی۔(بقیہ حاشیہ) دو مشرق اور دو مغرب ہوتے ہیں مگر موسموں اور ارضِ بلا دوغیرہ کے لحاظ سے بہت سے۔اس لئے فرمایا رَبُّ الْمَشَارِقِ وَالْمَغَارِبِ الْمَغْرِبَيْنِ - مصروا سین۔آیت نمبر ۲۰ - البحرين - عمرو بن عاص نے نہر سویز کے لئے رپورٹ بھیجی تھی خرچہ یہی بتلایا تھا جو آجکل سنا جاتا ہے مگر ارادہ الہی کسی دوسرے وقت پر تھا جو ظاہر ہوا۔یہ دو بحریں بحیرہ روم وقلزم (جو شاخ ہے بحر ہند کی ) ہیں جس میں نہر سویز کی پیشگوئی پوری ہوئی۔آیت نمبر ۲۳ - اللُّؤْلُؤُ وَالْمَرْجَانُ۔بحر قلزم سے مر جان اور بحر ظلمات سے لؤلؤ نکلتے ہیں اور بحر لوط جہاں مچھلی زندہ نہیں رہتی جس کو ڈیڈسی یا بحر مردار کہتے ہیں وہاں سے بھی نکلتے ہیں۔