اوضح القرآن۔ قرآن مجید مترجم مع تفسیر

Page 1130 of 1464

اوضح القرآن۔ قرآن مجید مترجم مع تفسیر — Page 1130

قال فما خطبکم ۲۷ الَّا تَطْغَوْا فِي الْمِيزَانِ ۱۱۳۰ الرحم ۹۔تم حد سے نہ بڑھو ترازو میں لے وَاقِيمُوا الْوَزْنَ بِالْقِسْطِ وَلَا تُخْسِرُوا ١٠۔اور تو لو انصاف سے اور تول میں کمی نہ کرو۔الْمِيزَانَ وَالْأَرْضَ وَضَعَهَا لِلْآنَامِ ن ۱۱۔اور زمین کولوگوں کے واسطے بنایا۔فِيهَا فَاكِهَةٌ وَالنَّخْلُ ذَاتُ الْأَكْمَامِ ۱۲۔کہ اس میں میوے ہیں اور کھجور میں جن پر غلاف چڑھے ہوئے ہیں۔وَالْحَبُّ ذُو الْعَصْفِ وَالرَّيْحَانُ ۱۳۔اور اناج ہے بھو سے والا اور خوشبودار پھول۔فَبِأَيِّ آلَاءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّ بْنِ ۱۴۔تو کون کون سی اپنے رب کی نعمتوں اور قدرتوں کو جھٹلاؤ گے؟ خَلَقَ الْإِنْسَانَ مِنْ صَلْصَالٍ كَالْفَخَّارِةٌ ۱۵۔اس نے انسان کو ٹھیکری کی طرح کھنکھناتی مٹی سے پیدا کیا۔وَخَلَقَ الْجَانَ مِنْ فَارِجَ مِنْ نَّارٍة ۱۶۔اور جن کو ٹو کی آگ سے۔فَبِأَيِّ آلَاءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّين ۱۷۔تو تم اپنے رب کی کون کون سی آیتوں سے مکرو گے؟ رَبُّ الْمَشْرِقَيْنِ وَرَبُّ الْمَغْرِبَيْنِ ۱۸۔اور وہ رب ہے دو مشرقوں کا اور دو مغربوں کا۔لے یعنی عدل کے خلاف کرو۔آیت نمبر ۹ - الْمِيزَانَ۔یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے منجانب اللہ ہونے کے دلائل رکھے ہیں اور معرفتِ باری تعالیٰ اور معرفت نفس اور معرفت حقوق اللہ وغیرہ سب ہی کا لحاظ ہے۔جس قد رکسی متمدن اعلیٰ درجہ کی قوم کو ضرورت ہو وہ سب اس میزان میں موجود ہے۔آیت نمبر 1۔وَالْاَرْضَ۔زمین سے لے کر آسمان تک۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی کامیابی پرسہ پیشگوئیاں ہی ہیں۔آیت نمبر ۱۸ - اَلْمَشْرِقَيْنِ - عراق - عجم و عرب - مصر و اسپین۔یعنی زمین کے دورخوں کے لحاظ سے بھی