اوضح القرآن۔ قرآن مجید مترجم مع تفسیر — Page 1129
قال فما خطبكم ۲۷ ۱۱۲۹ الرّحمن ٥٥ سُوْرَةُ الرَّحْمَنِ مَكَّيَّةٌ وَهِيَ مَعَ الْبَسْمَلَةِ تِسْعٌ وَّ سَبْعُونَ آيَةً وَّ ثَلاثَةُ رُكُوعَاتٍ بِسمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ ا۔ہم سورہ رحمن کو پڑھنا شروع کرتے ہیں اس اللہ کے اسم شریف سے جو پہلے سے نیک راہ سکھلانے والا ہے اور عمل کرنے والوں کو نیک نتج دینے والا ہے۔الرَّحْمَنُ 3 ۲۔رحمن نے۔عَلَّمَ الْقُرْآنَ ۳۔قرآن سکھایا ہے۔خَلَقَ الْإِنْسَانَ ۴۔انسان کو پیدا کیا۔عَلَّمَهُ الْبَيَانَ ۵۔اس کو بیان کرنا سکھایا۔الشَّمْسُ وَالْقَمَرُ بِحُسْبَانٍ ۶۔سورج و چاند حساب سے گردش کر رہے ہیں (یعنی اپنے محور پر تو حساب کو با ہم نہ ملانا چاہئے )۔والنَّجْمُ وَالشَّجَرُ يَسْجُدُنِ ے۔اور بیلیں اور درخت اور تارے سجدہ کر رہے ہیں۔وَالسَّمَاءَ رَفَعَهَا وَوَضَعَ الْمِيزَانَ۔۔اور آسمان کو اونچا کیا اور میزان اُتاری (یعنی ہر ایک چیز کے پہچاننے کے دلائل۔مطلب یہ کہ )۔آیت نمبر ۲ - الرَّحْمنُ۔قرآن کا نزول صفت رحمن سے ہے۔علم الوجوہ والنظائر سے ترجمہ قرآنِ مجید میں کام لینا چاہیے۔بلحاظ الفاظ کے تو بعض الفاظ نظیر ہوتے ہیں لیکن بلحاظ وجوہ کے معنے دوسرے ہو سکتے ہیں مثلاً وَوَجَدَكَ ضَالَّا فَهَدَى (الضحی (۸) میں لف و نشر مرتب ہے اور دوسری جگہ مَا ضَلَّ صَاحِبُكُمْ (النجم :) میں۔س۔کیا ہر صفات کا ظہور پورا پورا ہوتا ہے؟ ج حسب ارادہ الہی بے محل لائق ہوتو کامل ظہور ہوتا ہے۔آیت نمبر 4 - بِحُسْبَانِ۔حساب سے گردش کر رہے ہیں۔یہود میں رسول کریم کی پیشگوئیوں کی گڑ بڑ پڑگئی تھی اس لئے بتایا گیا کہ قمری حساب سے کام لو اور چاند اور سورج کے حساب میں گڑ بڑ نہ کرو۔آیت نمبرے۔اَلنَّجْمُ۔جس درخت کی جڑ ہو وہ شجر کہلاتا ہے اور جس کی نہ ہو وہ نجم کہلاتا ہے۔جیسے افتیمون و آکاس بیل وغیرہ۔