اوضح القرآن۔ قرآن مجید مترجم مع تفسیر — Page 106
تلك الرسل ٣ 1+4 ال عمران ۳ فَيَتَّبِعُوْنَ مَا تَشَابَهَ مِنْهُ ابْتِغَاءَ الْفِتْنَةِ کے ہیں ) وہ پیچھے پڑ جاتے ہیں ان آیتوں کے جو شبہ میں ڈالتی ہیں اور صاف طور پر سمجھ میں نہیں وَابْتِغَاءَ تَأْوِيلِهِ وَمَا يَعْلَمُ تَأْوِيْلَةَ إِلَّا ال آتیں فتنہ فساد پیدا کرنے کے ارادے سے اور الله وَالرَّسِحُوْنَ فِي الْعِلْمِ يَقُولُونَ الله اصل مطلب سمجھنے کے ارادے سے حالانکہ اس کا امَنَّا بِهِ كُلٌّ مِنْ عِنْدِرَ بْنَا وَمَا يَذَّكَّرُ إِلَّا صحیح مطلب اللہ ہی جانتا ہے اور جولوگ پختہ ہیں علم میں (وہ ہر ایک حکم کو اللہ ہی کے طرف سے مانتے ہیں) اور کہتے ہیں کہ ہم نے اس کو مانا سب کچھ ہمارے رب کی طرف سے ہے اور اُسے یاد نہیں کرتے اور سمجھانے سے بھی نہیں أولُوا الْأَلْبَابِ سمجھتے مگر عقلمند ہی لوگ رَبَّنَا لَا تُزِغْ قُلُوبَنَا بَعْدَ إِذْ هَدَيْتَنَا وَهَبْ و۔اے ہمارے رب! تو ہمارے دلوں کو بھی اور لَنَا مِن لَّدُنْكَ رَحْمَةً ۚ إِنَّكَ أَنْتَ بدسمجھی سے بچا اس کے بعد کہ تو ہم کو سمجھ دے چکا اور عطا فرما ہم کو خاص اپنے پاس کی رحمت تو ہی الْوَهَّابُ بڑا دینے والا ہے۔۔۔رَبَّنَا إِنَّكَ جَامِعُ النَّاسِ لِيَوْمٍ لَّا رَيْبَ ۱۰۔اے ہمارے رب ! بے شک تو سب لوگوں کو لا دانا مومن پختہ سمجھ والے دعا مانگتے ہیں۔الخ کے رحمت سے مراد فہم قرآن بھی ہے۔(بقیہ حاشیہ) متقی بنے کہ حصولِ فہم قرآن کا بڑا ذریعہ ہے۔تأويله - تأویل کے معنی مطلب کی حقیقت یا حقیقت حال اور تاویل کے یہ معنی لینا کہ بات کو اپنے مطلب پر گھڑ لیں غلط ہے اس کو تسویل کہتے ہیں اور یہ بُرا ہے اس کی حقیقت حال کو اللہ ہی جانتا ہے۔وَمَا يَعْلَمُ تَأْوِيْلَةَ إِلَّا الله۔جس سے مراد اصل حقیقت ہے۔يَقُولُونَ أَمَنَّا ہے۔کہتے ہیں کہ ہم نے اس کو مانا۔مومن کے چھ کام (۱) دعا (۲) مُبَرَّءٌ مِّنَ الْمَعْصِيَةِ وَالصَّبْرُ عَلَى الطَّاعَةِ (۳) راستبازی (۴) عبادت اللہ (۵) کچھ اللہ کی راہ میں خیرات (1) استغفار۔