اوضح القرآن۔ قرآن مجید مترجم مع تفسیر — Page 1118
قال فما خطبكم ۲۷ فَلِلَّهِ الْآخِرَةُ وَالْأُولى ۱۱۱۸ النجم ٥٣ ۲۶۔تو اللہ ہی کے اختیار میں ہے وہ جہان۔وَكَمْ مِنْ مَلَكَ فِي السَّمَوتِ لَا تُغنى ۲۷۔اور بہت سے فرشتے ہیں آسمانوں شَفَاعَتُهُمْ شَيْئًا إِلَّا مِنْ بَعْدِ اَنْ يَّأْذَنَ اللهُ میں کہ نہیں کام آتی ان کی سفارش کچھ بھی مگر اس کے بعد کہ اللہ اجازت دے جسے چاہے لِمَنْ يَّشَاءُ وَيَرْضَى اور خوشنود ہو۔إِنَّ الَّذِينَ لَا يُؤْمِنُونَ بِالْآخِرَةِ -۲۸۔جو لوگ ایمان نہیں لاتے مرنے کے بعد لَيُسَمُّوْنَ الْمَلَيْكَةَ تَسْمِيَةَ الْأُنثى آخرت میں جینے کا وہ فرشتوں کے نام رکھتے ہیں عورتوں کے نام سے۔۔وَمَا لَهُمْ بِهِ مِنْ عِلْمٍ اِنْ يَتَّبِعُونَ إِلَّا ۲۹۔اور اُن کو اس کا کچھ علم نہیں ہے وہ تو صرف الظَّنَّ وَإِنَّ الظَّنَّ لَا يُغْنِي مِنَ الْحَقِّ گمان ہی کی پیروی کرتے ہیں۔گمان کی پیروی شَيْئًان کچھ کام نہیں آتی حق بات میں۔فَأَعْرِضْ عَنْ مَّنْ تَوَلَّى عَنْ ذِكْرِنَا وَلَمْ ۳۰۔پس تو منہ پھیر لے اُس سے جو منہ پھیرے يُرِدُ إِلَّا الْحَيَوةَ الدُّنْيَات ہماری یاد سے اور کچھ بھی نہ مانگے مگر دنیا ہی کی زندگی۔آیت نمبر ۲۹ - مِنْ عِلْمٍ۔علم سے۔یعنی یقینی بات اور وحی اور الہام عقلی دلیل اور نشان وغیرہ علوم روحانیات ہمیشہ یہی معیار مدعیان ماموریت کے فیصلہ کن ہیں اور رہے ہیں سچ کہا کہ بے علم نتواں خدا را شناخت إِلَّا الظَّنَّ۔گمان ہی کی پیروی کی۔یہ بڑی عام غلطی ہے کہ ظنیات کو یقینیات کا درجہ دے دیا جاتا۔ہے۔چاہئے تو یوں کہ ظنیات پر پورا یقین نہ ہو اور جب حقیقت ثابت ہو جائے تو ظنیات فوراً چھوڑ دیئے جائیں۔چنانچہ حضرت عائشہ کے افک کا مسئلہ، عیسی علیہ السلام کا مصلوب ہونا، آسمان پر جانا اور اب تک زندہ رہنا، مشرکین کا الہ باطلہ کو معبود حقیقی سمجھنا، عام مسلمانوں کا اپنے مُردوں سے نفع وضرررسانی کا خیال رکھنا، مُردہ کا دوبارہ دنیا میں پلٹ کر آنا وغیرہ وغیرہ۔اُمور ظنیات جو قرآن شریف سے قطعاً غلط ثابت ہوں تو چھوڑ دیئے جائیں۔اسی طرح بدخبر اور الزامات کسی نیک بخت کی نسبت سن کر حسنِ ظن سے کام لیا جائے جب تک کہ کوئی قطعی ثبوت ملے۔آیت نمبر ۳۰۔ذِکرِنَا۔سے پہلے قرآن مراد ہے۔چنانچہ نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّكْرَ (الحجر:١٠) آیا ہے بعد ازاں عمل قرآن۔