اوضح القرآن۔ قرآن مجید مترجم مع تفسیر

Page 1116 of 1464

اوضح القرآن۔ قرآن مجید مترجم مع تفسیر — Page 1116

قال فما خطبكم ۲۷ فَأَوْحَى إِلَى عَبْدِهِ مَا أَوْحَى مَا كَذَبَ الْفُؤَادُ مَا رَأَى أَفَتُمُرُونَهُ عَلَى مَا يَرَى وَلَقَدْرَاهُ نَزْلَةً أُخْرَى عِنْدَ سِدْرَةِ الْمُنْتَهى۔عِنْدَهَا جَنَّةُ الْمَأْوَى اِذْ يَغْشَى السِّدْرَةَ مَا يَغْشَى مَازَاغَ الْبَصَرُ وَمَا طَغَى 1117 النجم ٥٣ ا۔پھر اللہ نے وحی بھیجی اپنے بندے کی طرف جو وحی بھیجی ( یعنی قرآن شریف)۔۱۲۔جو کچھ اُس نے دیکھا اس کے دل نے اس میں مغالطہ نہیں کھایا۔۱۳۔تو کیا تم اس سے اس دید میں جھگڑتے ہو جو اُس نے دیکھا۔۱۴۔اور بے شک اس نے اس کا دوبارہ نزول بھی دیکھا۔۱۵۔سدرۃ المنتہی کے پاس۔۱۶۔( یہاں کونسی بیری مراد ہے ) وہ جس کے نزدیک جنت آرام گاہ ہے۔۱۷۔جب اس بیری کو اعلیٰ درجہ کے انوار ڈھانکے ہوئے تھے ( جو بیان کی قوت سے بالاتر ہیں)۔۱۸۔نہ اس کی نظر نے کبھی کی (حق سے ) اور نہ وہ گستاخ ہوا۔(بقیہ حاشیہ) او ادنی۔یعنی کمان ، قوسِ خلق اور قوس اللہ کے دائرہ کا وتر ہوا۔ایک طرف سے فیضان لیتا دوسری طرف پہنچاتا۔اہل اللہ میں داخل ہونے کابدوں اس کے کوئی رستہ نہیں۔آیت نمبر ۱۲ - الفُؤَادُ۔یعنی آنحضرت کے قلب مبارک نے دھوکہ نہیں کھایا۔معلوم ہوا کہ وحی کا تعلق قلب سے ہے۔آیت نمبر ۱۴۔نَزْلَةً أُخرى۔اس کا دوبارہ نزول بھی دیکھا۔اتر کر کسی کو دیکھنا گویا نظر ثانی کرنا ہے۔آیت نمبر ۱۵ - سِدْرَةِ الْمُنْتَھی۔عرب میں دستور تھا چھوٹی چھوٹی کمیٹیاں گھر میں کرتے۔اس سے بڑی ند وہ یعنی مجلس عام سب سے بڑا جلسہ کرتے تو بیر کے درخت کے نیچے۔ہمارے شہروں میں بڑ کے درخت کے نیچے اور کشمیر میں چنار کے نیچے۔آیت نمبر ۱۸ - مازاغ۔اس کی نظر نے کبھی نہ کی۔کبھی خواہش جسمانی یا دنیوی نے توجہ حق سے اس پاک ذات کو نہ پھیرا۔مشرکین بھی پکار اٹھے مَاجَرَّ بُنَا عَلَيْكَ الْكَذِب اور خود حضور کی طرف سے اللہ نے فرمایا فَقَدْ لَبِثْتُ فِيكُمْ عُمُرًا مِنْ قَبْلِهِ (یونس : ۱۷) یہاں تک کہ اخیر وقت میں بھی ارشاد ہوتا ہے کہ میں