اوضح القرآن۔ قرآن مجید مترجم مع تفسیر — Page 1114
قال فما خطبكم ۲۷ ۱۱۱۴ النجم ٥٣ سُوْرَةُ النَّجْمِ مَكَّيَّةٌ وَهِيَ مَعَ الْبَسْمَلَةِ ثَلاتٌ وَّ سِتُّونَ آيَةً وَّ ثَلاثَةُ رُكُوعَاتٍ بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ ا۔ہم سورہ نجم کو پڑھنا شروع کرتے ہیں اُس اللہ وَالنَّجْمِ إِذَا هَوى مَاضَلَّ صَاحِبُكُمْ وَمَا غَوى & وَمَا يَنْطِقُ عَنِ الْهَوَى کے نام سے جس نے نجم الھدی کو بنایا اور اس کی پیروی کرنے والوں کو نتائج سے محروم نہ رکھا۔۲۔شریا ستارہ کی قسم ہے جب وہ سمت الراس پر نہ ہو، ادھر اُدھر ہو۔۔نہ بہکا تمہارا صاحب نہ بھٹکا!۔اور وہ بات نہیں کرتا اپنے نفس کی خواہش سے۔اِنْ هُوَ إِلَّا وَحْيٌ يُوحَى )۔بے شک وہ تو وحی ہے جو اس کو بھیجی جاتی ہے۔تمهید - مولانا مولوی نورالدین صاحب نے فرمایا یہی سورۃ ہے جس نے مجھے حضرت اقدس کا معتقد بنایا۔میں نے اس کو کاغذ پر تو نہیں لکھا مگر دل پر لکھ لیا ہے اور وہ وہ اسرار کھلے کہ سبحان اللہ ! آیت نمبر ۲ - النَّجْمِ - ثریا کے فوائد۔جہازران اور بیابان کے چلنے والے خوب جانتے ہیں۔جب ادنی اونی دنیوی کام کے لئے خدا نے نجم ٹھہرائے تو روحانی اور جاودانی عالم کے لئے نجم الہدی کی ضرورت کیوں نہ ہو؟ مگر یہ کیونکر ثابت ہو کہ یہ نجم الہدی ہی ہے اور نجم الہدی کو کیونکر پہچانیں؟ تو بھلے آدمی کی شناخت کے تین ذریعہ ہوتے ہیں (۱) بے علم و بے خبر نہ ہو۔اس لئے فرمایا مَا ضَلَّ (۲) اجنبی نہ ہو۔اس لئے فرمایا صَاحِبُكُمْ (۳) بے عمل نہ ہو۔اس لئے فرمایا وَ مَا غَوی۔ایسا مکمل آدمی کیا نتیجہ رکھتا ہے؟ تو ارشاد ہوا وَمَا يَنْطِقُ عَنِ الْهَوَى پھر اس کا معلم کون ہے؟ شَدِيدُ الْقُوی۔إِذَا هَوى - جب وہ سَمُتُ الراس پر نہ ہو۔کیوں کہ مقام پر ہو تو تب ہی اس سے سمت کا پتہ لگ سکتا ہے۔آیت نمبر ۵ - إِلَّا وَحی یوحی۔یعنی یہ قرآن سرا سر وحی اور کلام حق ہے۔جو اس پر بھیجی جاتی ہے۔خلاصہ یہ کہ اللہ حضور کی نبوت اور قرآن کے منجانب اللہ ہونے کا یہ ثبوت دیتا ہے کہ اس کا معلّم شَدِيدُ الْقُوای ہے جس نے آپ کو تعلیم دی اور وحی سے ممتاز کیا یا زور آور حملوں سے اس کی سچائی اور ماموریت کو ثابت کرے گا اور مخالفین کو ہلاک ، اور وہ تارہ ہے جو جہان پر حکومت کر رہا ہے۔یہ قریب ہوا اور وہ جھکا اور متوجہ ہوا یعنی ظہور قریب قرب ہوا۔کامل سیر سلوک یوں ہے کہ سَالِك سَير فِی الله إِلَى الله کر کے مِنَ الله ہو کر انسانوں کی ہدایت کی طرف لوٹے۔