اوضح القرآن۔ قرآن مجید مترجم مع تفسیر — Page 1110
قال فما خطبكم ۲۷ 111+ الطور ٥٢ وَأَقْبَلَ بَعْضُهُمْ عَلَى بَعْضٍ يَتَسَاءَلُونَ ٢٦۔اور وہ ایک دوسرے کی طرف منہ کر کے آپس میں بات چیت کریں گے۔قَالُوا إِنَّا كُنَّا قَبْلُ فِي أَهْلِنَا مُشْفِقِينَ ۲۷ - بولیں گے ہم تو پہلے اپنے گھر والوں میں ڈرا کرتے تھے۔فَمَنَّ الله عَلَيْنَا وَ وَقْنَا عَذَابَ السَّمُوْمِ ۲۸۔پس اللہ نے ہم پر احسان کیا اور ہم کو گرم کو کے عذاب سے بچالیا۔b إِنَّا كُنَّا مِنْ قَبْلُ نَدْعُوهُ إِنَّهُ هُوَ ۲۹۔ہم اس سے پہلے اللہ ہی کو پکارا کرتے تھے بے شک وہی بڑا احسان فرمانے والا رحیم ہے۔الْبَرُ الرَّحِيمُن فَذَكِّرْ فَمَا اَنْتَ بِنِعْمَتِ رَبِّكَ بِكَاهِنٍ ۳۰۔(تو اے پیارے محمد ) تو نصیحت کرتا رہ تو تو اپنے رب کے فضل و رحمت سے نہ تو کا ہن ہے ( انکل باز ) نہ دیوانہ۔وَلَا تَجنُونِ لَمْ يَقُولُونَ شَاعِرُ نَتَرَبَّصُ بِهِ رَيْبَ ۳۱۔کیا یہ لوگ کہتے ہیں یہ ایک شاعر ہے ہم اس کے حق میں انتظار کرتے ہیں زمانہ کی گردشات اور ہلاکت کا۔الْمَنُوْنِ (بقیہ حاشیہ ) سورہ واقعہ میں غلمان جمع ہے غلام کی جو بمعنی فرزند کے قرآن شریف میں کئی جگہ آچکا ہے اور بہشتیوں کے بچے جو بہت ہی خوبصورت ہوں گے۔بزرگوں کی خدمت کرتے ہوں گے ایسے ہی ان کے نوکر چاکر۔آیت نمبر ۳۰ - پگاهن عقلی پیشگوئی کرنے والا۔تیلی راجہ، جوڑ تو ڑ کرنے والا۔چلتا پر زہ۔پوتھی کھولنے والا برہمن۔مَجْنُونِ۔جو بے نتیجہ کام کرے یا جس کے کام ہمیشہ بے نتیجہ ہوں۔آیت نمبر ۳۱ - شاعر۔باریک خیالی باتیں کرنے والا بے عمل۔منصوبے باندھنے والا۔نازک خیال۔شاعر تو ہمیشہ ذلیل رہتے ہیں اور جس ملک میں جھوٹی شاعری زور پکڑتی ہے وہ قوم تباہ ہو جاتی ہے۔خاندان مغلیہ کا خاتمہ اسی جھوٹی شاعری میں ہوا۔اور جھوٹے کاہنوں کا بھی یہی حال ہے۔عرب یہی خیال کر کے آپ کو یہ بات مناتے تھے تو آپ نے اسی پر فیصلہ رکھ دیا جو صداقت کے ثبوت میں نویں دلیل ہے اور دسویں دلیل آگے آتی ہے کہ اس کے کلام حقیقت انجام کے برابر کوئی بات پیش کر کے تو بتاؤ۔