اوضح القرآن۔ قرآن مجید مترجم مع تفسیر

Page 1107 of 1464

اوضح القرآن۔ قرآن مجید مترجم مع تفسیر — Page 1107

قال فما خطبكم ۲۷ 11+2 الطور ٥٢ سُوْرَةُ الطُّوْرِ مَكَّيَّة وَهِيَ مَعَ الْبَسْمَلَةِ خَمْسُونَ آيَةً وَّ رُكُوعَانِ بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ ا۔ہم سورہ طور کو پڑھنا شروع کرتے ہیں اس اللہ کے اسم شریف سے جو قسموں کو دلائل کے والطورة وكتب مسطورة فِي رَقٌ مَنْشُورٍة والْبَيْتِ الْمَعْمُورة وَالسَّقْفِ الْمَرْفُوعِ ے اس میں بدر کی جنگ کی طرف بھی اشارہ ہے۔رنگ میں پہلے سے رکھ چکا اور جو دعووں کے نتیجوں کو پیش کرنے والا ہے۔۲۔موسیٰ کے مقام قرب کی قسم ! ۳۔اور اُس قرآن شریف کی ! ۴۔جو ہرن کی صاف جھلی اور کشادہ کا غذ میں لکھا ہوا ہے۔۔اور مکہ معظمہ کی قسم ! جو ہمیشہ آباد رہے گا۔۔اور بلند چھت ( یعنی آسمان ) کی قسم !الے آیت نمبر ۲۔وَ الطُّور۔اس طور کی قسم جہاں موسیٰ علیہ السلام کو رسالت ملی جس کا منکر فرعون ہلاک ہوا اور موسیٰ کامیاب ہوا۔قرآن مجید کی قسمیں اس کے دعوی کے دلائل کو مثبت دعاوی ہیں جو قرآن کریم نے کی ہیں۔چونکہ قرآن کی مخاطب تین قومیں ہیں۔عوام۔اوسط۔اعلیٰ۔ان تینوں کے لئے ثبوت ہیں۔یہ بات مسلّم ہے کہ جو جھوٹی قسم کھاتا ہے وہ دنیا میں ذلیل ہو جاتا ہے اور اس کی بچی باتیں بھی نہیں مانی جاتیں۔عرب کہتے ہیں إِنَّ الْأَيْمَانَ تُضِيعُ الْأَرْضَ بِمَا فِيهَا یعنی قسمیں ملک کی ویرانی کا موجب ہیں۔گویا جھوٹی قسمیں خطرناک قرار پائی ہیں تو جو شخص بہت سی قسمیں کھا کر بھی دنیا میں معزز و مکرم و کامیاب ومحترم ہو۔تو اس کی قسمیں اعجاز کبھی جائیں۔اس طرح تو عوام پر حجت پوری ہوگئی۔اوسط درجہ کے معزز لوگوں میں قسم بطور شاہد کے سمجھی گئی ہے یہ بات ہر قوم میں مسلّم ہے ایک شریر یعنی جواہر القرآن کا مصنف کہتا ہے کہ شیطان کی قسم کسی نے نہ کھائی۔حکیم الامت کا ارشاد ہے کہ یہ کمی بائبل نے پوری کر دی ہے کہ فرعون کی جان کی قسم کھائی ہے۔تیسرے اعلیٰ درجہ کے لوگوں کے لئے قسم ایک بار یک سی بات ہے یعنی وہ دلائل اور براہین کی جگہ ہیں ان دعاوی کے لئے جو پیش کئے جاتے ہیں۔آیت نمبر ۴۔رقّ۔لمبی چوڑی تختی۔یہود نے تو رات شریف کو مکتوب کی وطومار کی صورت میں بنا رکھا تھا جیسا آجکل بنڈل لپیٹا جاتا ہے۔اس کی لپیٹن کو کھولتے جاتے اور پڑھتے جاتے۔