اوضح القرآن۔ قرآن مجید مترجم مع تفسیر — Page 104
تلك الرسل ٣ ۱۰۴ ال عمران ۳ سُوْرَةُ الِ عِمْرَانَ مَدَنِيَّةٌ وَّ هِيَ مَعَ الْبَسْمَلَةِ مِائَنَا آيَةٍ وَّايَةٌ وَعِشْرُونَ رُكُوْعًا بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ ا۔میں پڑھنا شروع کرتا ہوں اُس کا نام لے کر جس میں خوبیاں ہی خوبیاں ہیں جو بے مانگے المة دینے والا سچی محنت کو ضایع نہیں کرنے والا۔الم الله لا إلهَ إِلَّا هُوَ الْحَيُّ الْقَيُّومُ ۳۔اللہ ہی سچا معبود ہے اُس کے سوا کوئی معبود نہیں وہ ہمیشہ زندہ ہے سب کا تھا منے والا ہے۔نَزَّلَ عَلَيْكَ الْكِتَبَ بِالْحَقِّ مُصَدِّقًا لِمَا ۴۔اُس نے تجھ پر سچی کتاب اتاری ، تصدیق بَيْنَ يَدَيْهِ وَأَنْزَلَ التَّوْرِيةَ وَالْإِنجِيلَ کرتی ہے اس کی جو اس کے سامنے ہے اور اسی نے توریت اور انجیل اتاری۔مِنْ قَبْلُ هُدًى لِّلنَّاسِ وَاَنْزَلَ الْفُرْقَانَ ۵- اس کتاب سے پہلے لوگوں کی ہدایت کے إِنَّ الَّذِيْنَ كَفَرُوا بِايْتِ اللَّهِ لَهُمْ عَذَابٌ لئے اور اتارا حق و ناحق میں فیصلہ، بے شک جنہوں نے چھپایا اللہ کی نشانیوں کو ان کے لئے شَدِيدٌ وَاللهُ عَزِيزٌ ذُو انْتِقَامٍ سخت عذاب ہے اور اللہ بڑا زبردست ہے بدلا لینے والا۔تمہید۔اس سورۃ میں کلام اللہ کو سمجھنے کے قواعد۔یہودیوں، عیسائیوں سے مناظرہ اور جہاد کے احکام ہیں۔آیت نمبر ۲۔اللہ۔یہ کلمہ چھ سورتوں کے اول میں آیا ہے۔اے مثیل موسی۔چونکہ ہمارے سردار دو جہاں قرآن مجید میں مثیل موسیٰ مانے گئے ہیں اس لئے اکثر قرآن موسی کے حالات سے بھرا پڑا ہے کیونکہ مثیل کے حالات اصیل کی شرح کرتے ہیں۔آیت نمبر ۳۔اَلْحَی۔وہ ہمیشہ زندہ ہے۔عیسائیوں کے مقابلہ میں فرمایا کہ عیسی علیہ السلام مر چکے وہی ایک حتی ہے اور توحید کا مضمون دینے کے لئے مضمون آیتہ الکرسی کا حصہ اس میں دے دیا۔آیت نمبر ۵ - هڈی۔لوگوں کی ہدایت کے لئے انجیل بھی ہمارے نبی کی بشارت دے چکی تھی۔یہاں ھدی کے یہی معنی ہیں۔الْفُرْقَانَ۔یعنی یہ کتاب جس سے دشمن کی کمر ٹوٹ گئی۔