اوضح القرآن۔ قرآن مجید مترجم مع تفسیر — Page 1101
11+1 الثريت ٥١ سُورَةُ الذَّرِيتِ مَكَّيَّةٌ وَهِيَ مَعَ الْبَسْمَلَةِ إِحْدَى وَسِتُّونَ آيَةً وَّثَلَاثَةٌ رُكُوعَاتٍ بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ ا۔ہم سورہ ذاریات کو پڑھنا شروع کرتے ہیں اس اللہ کے نام سے جس نے ہر ایک شے کے اسباب پہلے سے مہیا کر رکھے ہیں اور ان کے نتائج کو موجود کرنے والا ہے۔وَالذُّرِيتِ ذَرُوان فَالْحَمِلتِ وقران فَالْجُرِيتِ يُسْرًان فَالْمُقَسِمْتِ أَمْران إِنَّمَا تُوعَدُونَ لَصَادِقُ ) وإِنَّ الدِّينَ لَوَاقِع وَالسَّمَاءِ ذَاتِ الْحُبُكِ إِنَّكُمْ لَفِي قَوْلٍ مُّخْتَلِفِ ۲۔قسم ہے بخارات کو ہواؤں سے جدا کرنے والی ۳۔پھر ان کا بوجھ اٹھانے والیوں کی۔۴۔پھر نرم نرم چلنے والیوں کی۔۔پھر قسم ہے ان فرشتوں کی! جو تمام امور کے بانٹنے والے ہیں۔۔جو تم کو وعدہ دیا گیا ہے وہ تو سچ ہونے والا ہی ہے۔ے۔اور ضرور انصاف ہونے والا ہے۔قسم ہے آسمان کی! جوز بینت و مضبوطی والا ہے۔۹۔بے شک تم ایک جھگڑے کی بات میں پڑے ہوئے ہو۔آیت نمبر ۲ تا ۵- والتربتِ - ذریت بکھیر نے والی۔اٹھانے والی۔آنجرِیتِ۔چلانے والی۔الْمُقَسمت۔بانٹنے والی۔یہ سب صفتیں بظاہر ہواؤں کی ہیں مگر فِي الْحَقِيقَةِ، لِلْحَقِيقَةِ۔فرشتوں کی جو محرک باذن اللہ ہیں قسمیں دعاوی کے رنگ میں بطور دلائل کے ہیں۔دعویٰ یہ تھا کہ جزا سزا کا مسئلہ برحق ہے۔ثبوت یہ کہ جیسا کہ دنیا کے کام ظاہری سلسلہ اسباب کے ماتحت چل رہے ہیں اور بامر اللہ نتائج ضرور مرتب ہورہے ہیں۔ایسے ہی روحانی عالم میں اعمال صالحہ کا نتیجہ بھی ضرور مثمر ثمرات حسنہ ہوگا اور تخلف نہ ہوگا اور قیام قیامت کے اسباب جمع ہو رہے ہیں۔