اوضح القرآن۔ قرآن مجید مترجم مع تفسیر — Page 1097
۱۰۹۷ حَبْلِ الْوَرِيدِ قریب ہیں انسان کے جو شریانی رگوں میں ہوتا ہے۔إِذْ يَتَلَقَّى الْمُتَلَقِّينِ عَنِ الْيَمِينِ -١٨ جب لیتے جاتے ہیں یا حفاظت کرتے وَعَنِ الشِّمَالِ قَعِيْدُه جاتے ہیں دو ملنے والے یا حفاظت کرنے والے ایک دائیں طرف سے ایک بائیں طرف سے بیٹھے ہوئے۔مَا يَلْفِظُ مِنْ قَوْلٍ إِلَّا لَدَيْهِ رَقِيبٌ ۱۹۔یہاں تک کہ کوئی بات بھی آدمی منہ سے نہیں نکالتا مگر اس کے پاس ایک نگہبان تیار رہتا ہے ( لکھ لینے کو )۔عبيد وَجَاءَتْ سَكْرَةُ الْمَوْتِ بِالْحَقِّ ۲۰۔اور آئے گی موت کی بے ہوشی یقیناً یہ وہی ہے جس سے تو گریز کیا کرتا تھا۔ذلِكَ مَا كُنْتَ مِنْهُ تَحِيدُ وَنُفِخَ فِي الصُّورِ ذَلِكَ يَوْمُ الْوَعِيدِ ۲۱۔اور صور پھونکا جائے گا۔یہ وہی دن ہے جس سے ڈرایا گیا تھا۔وَجَاءَتْ كُلُّ نَفْسٍ مَّعَهَا سَابِقُ وَ شَهِيدٌ ۲۲۔اور ہر ایک نفس آئے گا اس کے ساتھ ایک ہانکنے والا ہو گا ایک گواہی دینے والا۔لَقَدْ كُنْتَ فِي غَفْلَةٍ مِنْ هَذَا ۲۳ - ( اور ہم کہیں گے ) بے شک تو تو اس دن۔( فَكَشَفْنَا عَنْكَ غِطَاءَكَ فَبَصَرُكَ سے بے خبر ہی تھا تو ہم نے اٹھا لیا تجھ سے تیرا پردہ تو آج تیری نظر بڑی تیز ہے۔الْيَوْمَ حَدِيدُ آیت نمبر ۲۲۔سابق۔نیک کا ہانکنے والا۔اس کا شوق وجذ بہ جو متمثل ہو جائے گا اور بد کا اس کی غفلت اور نحوست ہے۔ایک کو حضرت کبریا اور دوسرے کو جہنم کی طرف لے جائے گا اور شہید اس کی حالت یعنی انسان جیسے جیسے عمل کرتا ہے۔گویا وہ اُس طرف چل رہا ہے جیسے فضول خرچ کا ہانکنے والا افلاس ہے اور انجام میں اس کو خو د پالیتا ہے اور یہی شہید کے معنے ہیں۔جانور کو آگے سے پکڑ کر ہانکنے والا قائد اور پیچھے سے بڑھانے اور ہانکنے والا سائق کہلاتا ہے۔آیت نمبر ۲۳ - غِطَاءَ ہستی دنیوی یا غفلت سے۔