اوضح القرآن۔ قرآن مجید مترجم مع تفسیر — Page 4
28 البقرة ٢ سُوْرَةُ الْبَقَرَةِ مَدَنِيَّةٌ وَّ هِيَ مَعَ الْبَسْمَلَةِ مِائَتَانِ وَ سَبْع وَّ ثَمَانُوْنَ آيَةً و أَرْبَعُوْنَ رُكم وَّ رُكُوْعًا بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ ا۔میں پڑھنا شروع کرتا ہوں اس سورۃ کو اس کے نام کی مدد سے جو تمام صفات کاملہ کا جامع ، المة بلا درخواست دینے والا، سچی محنتوں کا ضائع نہیں کرنے والا ہے۔- الم اَعُوذُ بِاللهِ - قرآن مجید اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے اوّل اَعُوذُ بِاللہ پڑھنا چاہئے۔چنانچہ ارشاد الہی فَإِذَا قَرَأْتَ الْقُرْآنَ فَاسْتَعِذْ بِاللهِ ( النحل: ٩٩) ہے۔آیت نمبر ۲ - الم - یعنی انا اللهُ أَعْلَمُ - حضرت علی و ابن عباس وأبی ابن کعب و حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہم نے یہی معنی کئے ہیں۔اور حضرت مرزا غلام احمد صاحب قادیانی مسیح موعود و مہدی مسعود نے بھی۔مجھے یقین ہے کہ انہوں نے ابن عباس وابن مسعود کی تقلید سے یہ معنی نہیں کئے۔بلکہ اپنے ذوق و تحقیق سے بیان کئے۔معنی یہ ہیں۔میں اللہ بہت جاننے والا۔انا کا پہلا حرف لے لیا۔اللہ کا درمیانی اور اعلم کا آخری۔مجموعی حیثیت سے لوگوں نے طبع آزمائیاں کی ہیں۔دوسرے معانی بھی اپنے ذوق کے مطابق بیان کئے ہیں۔چنانچہ ایک بزرگ نے لکھا ہے کہ یہ اشارہ ہے اس بات کی طرف کہ اس سورہ میں آدم، بنی اسرائیل اور ابراہیم کا قصہ آئے گا۔حضرت اقدس علیہ الصلوۃ والسلام صاحب الوحی والالہام نے مذکورہ بالا معنی یعنی انا اللهُ أَعْلَمُ پر زور دینے کے لئے یہ معنی لئے ہیں کہ ہر ایک شے کے لئے عِلل اربعہ ہوا کرتے ہیں۔یعنی (۱) علت غائی (۲) علت صوری (۳) علت مادی (۴) علت فاعلی۔اس کے لئے هُدًى لِّلْمُتَّقِينَ عَلتِ غائی ہے اور لَا رَيْبَ فِيهِ عَلتِ صوری ہے اور ذَالِكَ الْكِتَابُ علت مادی ہے اور انا اللهُ اَعْلَمُ علت فاعلی ہے۔ف۔قبل نزول قرآن بھی زبان عربی میں مقطعات کا ثبوت پایا جاتا ہے۔چنانچہ لسان العرب جلد 1 میں یہ دو شعر موجود ہیں نَادَيْتُهُمْ أَنِ الْجِمُوا أَلَا تَا قَالُوا جَمِيعًا كُلُّهُمْ أَلَا فَا قُلْتُ لَهَا قِفِي فَقَالَتْ قِ (لسان العرب ، باب تفسير الحروف المقطعة ) اوزان طبیہ میں اہلِ طب مکد بجائے مِنْ كُلِّ وَاحِدٍ کے اور محدثین نے فَا و ثنا وحا اور زمانہ حال میں اہلِ یورپ نے مقطعات کا استعمال حد سے زیادہ کیا ہے۔