اوضح القرآن۔ قرآن مجید مترجم مع تفسیر — Page 1087
۱۰۸۷ الفتح ٤٨ لَتَدْخُلُنَّ الْمَسْجِدَ الْحَرَامَ إِنْ شَاءَ الله حرام میں اس لئے کہ اللہ نے چاہ لیا ہے، مِنِينَ مُحَلِّقِينَ رُءُوسَكُمْ b اطمینان کے ساتھ اپنے سروں کے بال منڈواتے اور کتر واتے ہوئے بے خوف پھر اللہ نے جانا جس وَمُقَصِرِينَ ، لَا تَخَافُونَ ، فَعَلِمَ مَا کا تم کو علم نہ تھا اور اس کے سوا ایک قریب ہی فتح لَمْ تَعْلَمُوا فَجَعَلَ مِنْ دُونِ ذلك اس نے مقرر فرمائی۔فَتْحًا قَرِيبًا هُوَ الَّذِي أَرْسَلَ رَسُولَهُ بِالْهُدے ۲۹۔اور وہی اللہ ہے جس نے بھیجا اپنے رسول وَدِينِ الْحَقِّ لِيُظْهِرَهُ عَلَى الدِّينِ كُلِم کو ہدایت اور سچے دین کے ساتھ تاکہ اس کو غالب رکھے تمام دینوں پر لے اور اللہ کافی ہے گواہی کے لئے۔وَكَفَى بِاللَّهِ شَهِيدَات مُحَمَّدٌ رَّسُولُ اللهِ وَالَّذِينَ مَعَةَ ٣٠ محمد اللہ کا رسول ہے اور جولوگ اس کے ساتھ ہیں وہ کافروں پر بہت مؤثر ہیں ان سے متاثر أَشِدَّاءُ عَلَى الْكُفَّارِ رُحَمَاءُ بَيْنَهُمْ نہیں ہوتے۔شدید و غالب ہیں۔اور آپس میں لے تکمیل اشاعت ہدایت کی حیثیت سے پیش گوئی بھی مسیح موعود کے متعلق ہے۔یعنی محمد کے رنگ سے رنگین ہیں جو جلالی اسم ہے۔(بقیہ حاشیہ) کا موقع ملا اور مسلمانوں کو یہ امر شاق گزرا کہ دیکھو نبی کا یہ خواب جھوٹا گیا حالانکہ خواب میں نہ وقت بتا یا گیا تھا اور نہ روانگی کا دن مگر ہنسی کرنے والوں کو بہانہ ہی کافی ہے جو قرآن کی پیشگوئی کے طور پر اس خواب کا سچا ہونا بیان فرما دیا۔یہ قرآن کا محاورہ ہے کہ قریب ہونے والی یقینی بات کو وہ ماضی کے صیغہ میں بیان فرماتا ہے۔آیت نمبر ۲۹ - دِيْنِ الْحَقِّ۔دینِ حق کے پیش کرنے میں نبیوں سے کبھی غلطی نہیں ہوتی۔ہاں پیشگوئیوں کے سمجھنے میں بلا تفہیم الہی کچھ غلطی ہوتی ہے جو عام کے لئے مضر نہیں ہوتی۔رسول کی ذات پر اس کا اعتراض پڑتا ہے مگر بے انتہا فوائد وعلوم اور جالب نصرت اور اظہار بشریت اور تائیدات الہی وہ غلطی ہوتی ہے کیونکہ اس میں رقت اور انفعال بشری جو جالب فیضان ربوبیت الہی ہے شامل ہے۔آیت نمبر ۳۰۔رُحَمَاءُ۔آپس میں بڑے نرم دل ہیں۔حضرت قاضی ثناء اللہ صاحب پانی پتی فرماتے ہیں کہ یہ جو لوگ کہتے ہیں کہ صحابہ میں باہم لڑائیاں ہوئیں یہ بات بالکل جھوٹ ہے۔خاص کر صلح حدیبیہ میں جو صحابہ موجود تھے اُن میں تو کبھی بھی نہیں ہوئیں۔فَأَلَّفَ بَيْنَ قُلُوبِكُمُ (ال عمران :۱۰۴) ان کی شان ہے۔