اوضح القرآن۔ قرآن مجید مترجم مع تفسیر — Page 1086
۱۰۸۶ الفتح ٤٨ هُمُ الَّذِيْنَ كَفَرُوا وَصَدُّوكُمْ عَنِ ۲۶۔کافر وہی تو ہیں جنہوں نے کفر کیا اور تم کو رو کا تعظیم والی مسجد سے اور قربانی کے جانوروں کو الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ وَالْهَدْيَ مَعَكُوْفًا أَنْ يَبْلُغَ روکا کہ وہ رکے کھڑے رہے اور قربانی کی جگہ نہ مَحِلَّه وَلَوْلَا رِجَالٌ مُّؤْمِنُوْنَ وَنِسَاءِ پہنچ سکے اور اگر ہوتے کچھ مرد ایماندار اور کچھ مؤْمِنتُ لَمْ تَعْلَمُوْهُمْ أَنْ تَطَنُّوهُمْ عورتیں ایماندار ( مکہ میں ) جن کو تم جانتے نہیں تو انجانے میں) وہ تمہارے ہاتھ سے پیسے فَتُصِيبَكُم مِّنْهُم مَّعَرَّةٌ بِغَيْرِ عِلْمٍ جاتے اور روندے جاتے پھر تم پر خرابی آپڑتی لِيُدْخِلَ اللهُ فِي رَحْمَتِهِ مَنْ يَشَاءُ ان سے ( یعنی مومنوں کے مارے جانے سے) بے خبری اور لاعلمی کی حالت میں نتیجہ یہ کہ اللہ لَوْتَزَيَّلُوا لَعَذَّبْنَا الَّذِينَ كَفَرُوا مِنْهُمْ داخل فرمائے اپنی رحمت میں جس کو چاہے اگر عَذَابًا أَلِيمًا وہاں کے مسلمان جدا ہوتے تو ہم کافروں کو ضرور سزا دیتے ٹیس دینے والے عذاب کی۔إِذْ جَعَلَ الَّذِينَ كَفَرُوا فِي قُلُوبِهِمُ ۲۷۔جس وقت ٹھان لی کافروں نے اپنے دل الْحَمِيَّةَ حَمِيَّةَ الْجَاهِلِيَّةِ فَأَنْزَلَ اللهُ میں ضد وہ بھی جاہلیت کی ضد، تو اللہ نے نازل سَكِينَتَهُ عَلَى رَسُولِهِ وَعَلَى الْمُؤْمِنِينَ فرمایا اپنی طرف سے اپنے رسول اور ایمانداروں پر دلی اطمینان اور اللہ سے ڈرنے وَالْزَمَهُمْ كَلِمَةَ التَّقْوى وَكَانُوا أَحَقَّ کی بات اُن کو لازم کر دی اور وہی لوگ اس کے بِهَا وَأَهْلَهَا وَكَانَ اللهُ بِكُلِّ شَيْءٍ لائق اور اس بات کے اہل تھے اور اللہ ہر ایک نچ چیز سے بڑا واقف ہے۔عَلِيْمان لَقَدْ صَدَقَ اللهُ رَسُوْلَهُ الرُّؤْيَا بِالْحَقِّ * ۲۸۔بے شک اللہ نے سچا کر دکھلایا تھا اپنے رسول کو واقعی رؤیا کہ ضرور تم داخل ہو گے مسجد آیت نمبر ۲۶ - بِغَيْرِ عِلْم۔یعنی بے علمی کی حالت میں۔مکہ کے غیر مشہور ایماندار مارے جاتے تو ان ایمانداروں کی حفاظت کے لئے فتح نہ ہوئی ورنہ فوراً ہو جاتی اور کا فرسب مارے جاتے۔آیت نمبر ۲۸ - الرویا۔حضرت نے ہجرت کے چھٹے سال یہ خواب دیکھا تھا کہ ہم مسجد کعبہ میں گئے ہیں ارکان حج یا عمرہ باطمینان ادا کر رہے ہیں۔اور یہ خواب آپ نے بعض سے بیان بھی کر دیا تھا۔پھر آپ نے عمرہ کا قصد کیا۔جب آپ حدیبیہ میں پہنچے اور کفار مکہ کو خبر ہوئی تو انہوں نے مقابلہ کیا اور چند شرائط پر صلح ہوئی۔مکڈ مین کو ہنسی اڑانے