اوضح القرآن۔ قرآن مجید مترجم مع تفسیر

Page 1084 of 1464

اوضح القرآن۔ قرآن مجید مترجم مع تفسیر — Page 1084

۱۰۸۴ الفتح ٤٨ قُلْ لِلْمُخَلَّفِينَ مِنَ الْأَعْرَابِ سَتَدْعَوْنَ ۱۷۔کہہ دے پیچھے رہ جانے والے بدویوں سے کہ قریب ہی تم بلائے جاؤ گے سخت لڑنے إلى قَوْمٍ أُولِي بَأْسٍ شَدِيدٍ تُقَاتِلُونَهُمُ والوں کی طرف کہ تم ان سے لڑو گے یہاں تک اَوْ يُسْلِمُونَ فَإِنْ تُطِيعُوا يُؤْتِكُمُ الله کہ وہ مسلمان ہو جاویں گے پھر اگر تم حکم مانو أَجْرًا حَسَنًا وَإِنْ تَتَوَلَّوْا كَمَا تَوَلَّيْتُمْ گے تو اللہ تم کو عطا فرمائے گا اچھا اجر اور اگر تم پیٹھ پھیر دو گے جیسے تم پیٹھ پھیر بیٹھے تھے پہلی مِنْ قَبْلُ يُعَذِّبُكُمْ عَذَابًا أَلِيمًا بار تو تم کو اللہ میں دینے والا عذاب دے گا۔لَيْسَ عَلَى الْأَعْلَى حَرَجٌ وَلَا عَلَى ۱۸۔ہاں اندھے پر کچھ حرج نہیں اور نہ لنگڑے الْأَعْرَجِ حَرَجٌ وَلَا عَلَى الْمَرِيضِ پر کچھ گناہ ہے اور نہ بیمار پر کچھ تنگی ہے اور جو کوئی اللہ اور اس کے رسول کا حکم مانے وہ اس کو باغوں حَرَجٌ وَمَنْ يُطِعِ اللَّهَ وَرَسُولَهُ يُدْخِلْهُ میں داخل کرے گا جن میں نہریں بہہ رہی ہیں جَنَّتٍ تَجْرِي مِنْ تَحْتِهَا الْأَنْهُرُ ۚ وَمَنْ اور پیٹھ پھیر جائے گا تو اسے ٹیس دینے والا يَتَوَلَّ يُعَذِّبْهُ عَذَابًا أَلِيمًان +02 النصف عذاب دے گا۔لَقَدْ رَضِيَ اللهُ عَنِ الْمُؤْمِنِينَ إِذْ ۱۹۔بے شک اللہ راضی ہو گیا ہے مومنوں سے جب وہ تجھ سے بیعت کرنے لگے درخت کے يُبَايِعُونَكَ تَحْتَ الشَّجَرَةِ فَعَلِمَ مَا فِي نیچے پس اس نے جان لیا جو کچھ ان کے دلوں قُلُوبِهِمْ فَأَنْزَلَ السَّكِيْنَةَ عَلَيْهِمْ میں ہے پھر نازل فرمایا دلی اطمینان اُن پر اور ان کو فتح قریب کا بدلہ دیا ہے۔وَآثَابَهُمْ فَتْحًا قَرِيبًا ے بہت غنیمت ہاتھ آئی۔آیت نمبر ۱۸۔وَلَا عَلَى الْمَرِيضِ - نہ بیمار پر کچھ ہرج ہے۔یعنی معذوروں پر ملامت نہیں مگر جو ہٹے کٹے بلا عذ رسول اللہ کے ساتھ نہیں ہوتے ان پر ملامت تھی۔آیت نمبر ۱۹ - عَنِ الْمُؤْمِنِینَ۔تحقیق اللہ راضی ہو گیا ہے ایمانداروں سے۔شیعہ کہتے ہیں مومنوں سے ہم مراد ہیں۔اس کے تین جواب عجیب ہیں (۱) تو یہ کہ سب ائمہ کہاں تھے (۲) وہ تو مطہر سمجھے گئے ہیں (۳) مَغَانِمَ كَثِيرَة کے مصداق کون ہیں ؟ اس پر اعتراض یہ کہ سب حضرت علی کو حاصل ہوا۔( ج ) حضرت علی نے اپنی خلافت میں کیا کیا ؟ السَّكِينَةَ - دلی اطمینان - ایمان چار قسم پر ہے۔ایک دنیوی جس پر یہ حدیث دلالت کرتی ہے