اوضح القرآن۔ قرآن مجید مترجم مع تفسیر

Page 1082 of 1464

اوضح القرآن۔ قرآن مجید مترجم مع تفسیر — Page 1082

۱۰۸۲ الفتح ٤٨ يَدُ اللهِ فَوْقَ أَيْدِيهِمْ ۚ فَمَنْ نَّكَثَ فَإِنَّمَا ہیں تو وہ اللہ ہی سے بیعت کرتے ہیں اللہ کا ہاتھ اُن کے ہاتھوں کے اوپر ہے لے پھر جو عہد توڑ يَنْكُتُ عَلَى نَفْسِهِ وَمَنْ أَوْفَى بِمَا عَهَدَ دے گا تو وہ اپنے ہی نفس کے لئے تو ڑ دے گا عَلَيْهُ اللهَ فَسَيُؤْتِيهِ أَجْرًا عَظِيْمان ف اور جو اس عہد کو پورا کرے گا جو اللہ سے کیا ہے تو اللہ اس کو قریب ہی عطا فرمائے گا بڑا اجر۔سَيَقُولُ لَكَ الْمُخَلَّفُونَ مِنَ الْأَعْرَابِ ۱۲۔اب تجھ سے کہیں گے پیچھے رہ جانے والا ( یعنی منافق ) گنواروں میں سے کہ ہم کو پھنسا لیا شَغَلَتْنَا أَمْوَالُنَا وَاَهْلُوْنَا فَاسْتَغْفِرْ لَنَا ہمارے مال اور بال بچوں نے تو آپ ہمارے يَقُولُونَ بِأَلْسِنَتِهِمْ مَّا لَيْسَ فِي قُلُوبِهِمْ - لئے بخشش مانگیئے۔یہ لوگ کہیں گے اپنے منہ قُلْ فَمَنْ يَّمْلِكُ لَكُمْ مِّنَ اللهِ شَيْئًا سے جو ان کے دلوں میں نہیں۔تو کہہ دے اللہ کے مقابل میں تمہارا کون مالک ہے کچھ بھی اگر إِنْ أَرَادَ بِكُمْ ضَرًّا أَوْ أَرَادَ بِكُمْ نَفْعًا وہ تم کو نقصان پہنچانا چاہے یا نفع دینا چاہے بلکہ بَلْ كَانَ اللهُ بِمَا تَعْمَلُونَ خَبِيرًا جو تم کرتے ہو اللہ اس سے بڑا خبر دار ہے۔بَلْ ظَنَنْتُمْ أَنْ لَنْ يَنْقَلِبَ الرَّسُولُ ۱۳۔بلکہ تمہارا یہی گمان رہا کہ رسول اللہ اور ے دست شفقت و حمایت الہی۔(بقیه حاشیه ) بِمَا عُهَدَ عَلَيْهُ الله - جو اس عہد کو پورا کرے گا جو اللہ سے کیا ہے۔عُهَدَ عَلَيْهُ الله میں جو نمبر مضموم آ رہی ہے اس کا سبب یہ ہے کہ گسر جو توڑنے کے معنے ہیں وہ ایفاء وعدہ کے مقابل نا پسند سمجھا گیا ہے اور ضمہ دیا گیا۔دوسرے واعظ و لیکچرار خاص توجہ دلانے کے لئے حرکات وصورت و آواز کو تغیر دیتے ہیں۔عرب میں بھی یہ دستور ہے کہ خاص توجہ دلانے کے لئے لفظ کو معمولی رنگ سے غیر معمولی رنگ میں لے آتے ہیں۔صورت بدلتے ہیں۔اعراب بدل دیتے ہیں۔آیت نمبر ۱۲ - اَلْمُخَلَّفُونَ۔پیچھے رہ جانے والے۔دنیا میں لوگوں نے ایک بات بنائی ہے کہ مروان کو رسول اللہ صلی اللہ نے نکال دیا تھا اور ابو بکر اور عمر نے بھی اور حضرت عثمان نے بلا لیا۔یہ حضرت عثمان پر اعتراض ہے رض اور اس پر حضرت مولانا نورالدین صاحب کا یہ اعتراض ہے کہ واللہ اعلم یہ واقعہ کہاں تک صحیح ہے اصل یہ ہے کہ مروان ابھی پیدا بھی نہیں ہوا تھا۔یہاں اس کے باپ کا حال ہو تو ہو اور حضرت عثمان نے اگر اس کو بلا لیا تو معیوب نہیں کیونکہ وہ طرِید تھا اور مُخَلّفین کو موقعہ دیا گیا تھا کہ ہمارے ساتھ تو نہیں مگر اور جماعت اسلام کے ساتھ شریک ہوسکیں گے اور ان کے قصور بھی معاف ہو جائیں گے بشرطیکہ صلاحیت پیدا کریں۔