اوضح القرآن۔ قرآن مجید مترجم مع تفسیر — Page 1076
محمد ٤٧ فَهَلْ عَسَيْتُمْ إِنْ تَوَلَّيْتُمْ أَنْ تُفْسِدُوا فِي ۲۳۔تو کیا تم قریب ہو کہ اگر والی بنوتو ملک میں الْأَرْضِ وَتُقَطِعُوا أَرْحَامَكُمْ ) فساد کرو اور اپنے رشتہ داروں کا لحاظ کاٹ دو۔أُولَيْكَ الَّذِيْنَ لَعَنَهُمُ اللَّهُ فَأَصَمَّهُمْ ۲۴۔یہی لوگ ہیں جن پر اللہ نے لعنت کی وَاعْلَى أَبْصَارَهُمْ اور ان کو بہرا بنا دیا ( یعنی حق سننے سے ) اور اندھا کر دیا ( یعنی حق دیکھنے سے )۔أَفَلَا يَتَدَبَّرُونَ الْقُرْآنَ اَمْ عَلَى قُلُوبِ ۲۵ تو کیا لوگ غور نہیں کرتے قرآن میں یا ان کے دلوں پر فضل پڑے ہوئے ہیں۔اقْفَالُهَا اِنَّ الَّذِيْنَ ارْتَدُّوا عَلَى ادْبَارِهِمْ مِنْ بَعْدِ ۲۶۔کچھ شک نہیں کہ جو لوگ پھر گئے اپنی پشت کی طرف ایسی حالت کے بعد کہ مرتد ہو گئے مَا تَبَيَّنَ لَهُمُ الْهُدَى الشَّيْطنُ سَوَّلَ جب کہ ہدایت کی راہ ظاہر ہو چکی۔شیطان نے ان کو آراستہ کر دکھایا اور ان کو ڈھیل دی ہے۔لَهُمْ وَأَمْلَى لَهُمْ ذلِكَ بِأَنَّهُمْ قَالُو الِلَّذِيْنَ كَرِهُوا مَا نَزَّلَ ۲۷۔یہ اس سبب سے ہے کہ انہوں نے لوگوں سے کہا جو نا پسند کرتے ہیں اللہ کے اتارے الله سَنُطِيْعُكُمْ فِي بَعْضِ الْأَمْرِ وَاللَّهُ ہوئے کو کہو کہ ہم تمہاری اطاعت کریں گے بعض يَعْلَمُ اِسْرَارَهُمْ کاموں میں اور اللہ ان کے بھیدوں کو خوب جانتا ہے۔آیت نمبر ۲۳ - اَرْحَامَكُمْ۔قریب ہے کہ رشتہ داروں کا پاس چھوڑ دو۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ میں نے رحم کو اپنے اسم رحمن سے پیدا کیا ہے۔جو کوئی میرے نام کی رعایت کرے گا میں اس کے ساتھ نیک سلوک کروں گا اور جو کوئی اس سے قطع کرے گا میں اس سے قطع کروں گا۔اور رسول اللہ نے بھی فرمایا ہے کہ ”جس گناہ کی سزا جلدی مل جاتی ہے اور آخرت کا عذاب بھی باقی رہتا ہے وہ بغاوت وقطع رحم ہے۔مشکوۃ صفحہ ۴۱۲ (مشکوۃ المصابيح كتاب الآداب باب البر و الصلة الفصل القانی حدیث نمبر ۴۹۳۲)۔حدیث میں آیا ہے کہ ”جو رزق اور عمر میں ترقی چاہے اور گناہوں کا بخشوانا تو قرابت داروں کے ساتھ صلہ رحمی کرتا رہے“۔مشکوۃ صفحہ ۴۱۱ (مشکوۃ المصابيح كتاب الآداب باب البر والصلة الفصل الثاني حدیث نمبر ۴۹۱۸)۔اور بعض آدمیوں کے لئے پیشگوئی کی تھی کہ وہ قطع رحم کریں گے جیسا کہ بعد میں یزید اور حجاج وغیرہ سے با ہمی قطع تعلقات ہوئے۔آیت نمبر ۲۶ - سَوَّلَ لَهُمْ - آراستہ کر دکھایا ان کو۔منافق قرآن کے مطالب نہیں سوچتے۔شیطان کے کہنے پر چلتے ہیں یعنی بُرے وسوسے یا بُرے لوگوں کے کہنے پر۔