اوضح القرآن۔ قرآن مجید مترجم مع تفسیر — Page 1064
۱۰۶۴ الاحقاف ٤٦ وَمَا أَدْرِي مَا يُفْعَلُ بِى وَلَا بِكُمْ ہوں اور میں جانتا نہیں کہ میرے ساتھ اور تمہارے ساتھ کیا کیا جائے گا اور میں تو اُسی پر چلوں گا جو إنْ أَتَّبِعُ إِلَّا مَا يُوحَى إِلَى وَ مَا أَنَا میری طرف وحی کی جاتی ہے اور میں ہوں ہی کیا إِلَّا نَذِيرٌ مُّبِينٌ صرف ایک کھلم کھلا دشمنوں کو ڈرانے والا ہی۔قُلْ أَرَءَ يْتُمْ إِنْ كَانَ مِنْ عِنْدِ اللهِ۔تو کہہ دے بھلا غور کرو یہ قرآن اگر اللہ ہی وَكَفَرْتُم بِهِ وَ شَهِدَ شَاهِدٌ مِن کی طرف سے ہوا ور تم نے اس کو نہ مانا اور بنی اسرائیل کا ایک حکمران شہادت دے چکا بَنِي إِسْرَاوِيْلَ عَلَى مِثْلِهِ فَأَمَنَ اپنے مثیل کی تو وہ ایمان لا چکا اور تم نے اپنے کو وَاسْتَكْبَرْتُمْ اِنَّ اللهَ لَا يَهْدِي بڑا سمجھا اور دوسرے کو حقیر۔کچھ شک نہیں کہ الْقَوْمَ الظَّلِمِينَ نچ ظالم لوگ جس راہ پر چل رہے ہیں وہ تو اللہ کی بتائی ہوئی نہیں۔وَقَالَ الَّذِينَ كَفَرُوا لِلَّذِينَ آمَنُوا لَوْ كَانَ ۱۲۔اور کافر کہنے لگے ایمانداروں کی نسبت کہ خَيْرًا مَّا سَبَقُونَا إِلَيْهِ وَإِذْ لَمْ يَهْتَدُوا بِهِ اگر دین اسلام بہتر ہوتا تو یہ ہم سے پہلے نہ دوڑ پڑتے اُس کی طرف اور جب اس کے ذریعہ آیت نمبر ا۔شَهِدَ شَاهِدٌ الخ۔بنی اسرائیل کا ایک حکمران شہادت دے چکا آیت ۱۸۔۱۸ باب استثناء ” میں ان کے لئے ان کے بھائیوں میں سے تجھ سا ایک نبی بر پا کروں گا اور اپنا کلام اس کے منہ میں ڈالوں گا اور جو کچھ میں اسے فرماؤں گا وہ سب ان سے کہے گا“۔آیت نمبر ۱۲۔مَا سَبَقُونَا۔ہم سے آگے نہ دوڑ پڑتے۔کا فرمتکبر ، خود رائے ،خود پسندی کی مرض میں مبتلا ان مومنوں کے متعلق جو غرباء ابتدا میں اسلام میں داخل ہوئے یوں کہتے ہیں کہ یہ مذہب اسلام اگر کوئی خوبی یا معقولیت اپنے اندر رکھتا تو ہم لوگ جو اہل الرائے ہیں اور ہر ایک اچھی چیز کو لینے والے ہیں اس کو قبول کرتے یہ غرباء ہم سے اس کی طرف سبقت نہ لے جاتے۔جیسا کہ دنیا میں اچھا لباس، اچھی خوراک، اچھا مکان ، اچھی جائیداد بھی بڑے لوگ حاصل کیا کرتے ہیں اور ان کا بچا کھچا غرباء کو ملتا ہے۔پھر اس امر کے اثبات کے لئے کہ اسلام میں کوئی بھی خوبی نہیں اور یہ کہ ان غرباء نے جلدی کی ہے، بے سوچے سمجھے قبول کیا ہے یوں کہتے ہیں کہ جب ان غرباء کو بھی اس کے ذریعہ سے ہدایت کا رستہ نہیں ملے گا یہ بھی مرتد ہو جائیں گے اور اس کو افت قدیم کہیں گے۔اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے ان کا رڈیوں فرمایا ہے کہ اس کے پہلے موسیٰ کی کتاب کو فرعون اور اس کے درباریوں نے جو کہ اہل الرائے اور اہل ملک تھے قبول نہ کیا اور غرباء، ضعفاء نے اسے قبول کیا پھر اس کا نتیجہ فرعون کے حق میں کیا ہوا ؟ ظاہر ہے ( شرح جدید )۔