اوضح القرآن۔ قرآن مجید مترجم مع تفسیر — Page 100
تلك الرسل ٣ البقرة ٢ وَلْيُمْلِلِ الَّذِي عَلَيْهِ الْحَقُّ وَلْيَتَّقِ اللهَ رَبَّهُ کو چاہئے کہ لکھ دے اور لکھوا تا جاوے وہ شخص وَلَا يَبْخَسْ مِنْهُ شَيْئًا فَإِنْ كَانَ الَّذِى جس پر حق ہے اور اللہ سے ڈرے جو اُس کا رب ہے اور کاٹ چھاٹ نہ کرے اُس میں سے کچھ۔عَلَيْهِ الْحَقُّ سَفِيها اَوْ ضَعِيفًا اَوْلَا پھر اگر وہ شخص جس پر حق ہے کم عقل ہو یا نا تواں يَسْتَطِيعُ أَنْ تُمِلَّ هُوَ فَلْيُمْلِلْ وَلِلَّه ہو یا وہ خود نہ لکھوا سکتا ہو تو اس کا ولی مختار انصاف بِالْعَدْلِ وَاسْتَشْهِدُ وَاشَهِيدَيْنِ مِنْ سے لکھوا دے اور دو گواہ ٹھہرا لیا کر و مردوں میں سے پھر اگر دو مرد نہ ہوں تو ایک مرد اور دو عورتیں رِجَالِكُمْ ۚ فَإِن لَّمْ يَكُونَا رَجُلَيْنِ جن کو تم گواہوں میں پسند کرو ( ٹھہرا دو ) اس فَرَجُلٌ وَ امْرَأَتُنِ مِمَّنْ تَرْضَوْنَ مِنَ وجہ سے کہ بھول جاوے ان میں سے کوئی تو یاد دلا الشُّهَدَاءِ أَنْ تَضِلُّ اِحْدُهُمَا فَتُذَكَّرَ دے اُس کو دوسری اور انکار نہ کریں گواہ جب بلائے احْدُهُمَا الْأُخْرَى وَلَا يَأْبَ الشُّهَدَاءِ جائیں اور اس بات میں سُستی نہ کرو کہ لکھ لیا کرو اُس کو چھوٹا ہو معاملہ یا بڑا ایک میعاد تک یہ اللہ کے۔إِذَا مَا دُعُوا وَلَا تَسْمُوا اَنْ تَكْتُبُوهُ پاس بڑی منصفانہ کارروائی ہے اور بہت ٹھیک ہے صَغِيرًا أَوْ كَبِيرًا إِلَى أَجَلِهِ ذَلِكُمُ اقْسَط گواہی کے لئے اور معلوم ہوتا ہے تم کو شبہ نہ پڑے عِنْدَ اللهِ وَأَقْوَمُ لِلشَّهَادَةِ وَأَدْنَى أَلَّا گا مگر ہاں موجودہ تجارت ہو جو تمہارے آپس میں لین دین ہوا کرتا ہے تو تم پر کچھ گناہ نہیں تَرْتَابُوا إِلَّا أَنْ تَكُونَ تِجَارَةً حَاضِرَةً جو اس کو نہ لکھو۔اور گواہ تو کر ہی لیا کرو جب تُدِيرُوْنَهَا بَيْنَكُمْ فَلَيْسَ عَلَيْكُمْ جُنَاحٌ تم سودا کرو اور لکھنے والے اور گواہ کونقصان نہ اَلَّا تَكْتُبُوهَا وَأَشْهِدُوا إِذَا تَبَايَعْتُمْ پہنچایا جاوے اور اگر ایسا کرو گے تو یہ تمہارے وَلَا يُضَارَ كَاتِبٌ وَلَا شَهِيدٌ وَإِنْ تَفْعَلُوا لئے گناہ کی بات ہے اور اللہ سے ڈرتے رہو اور اللہ فَإِنَّهُ فُسُوقُ بِكُمُ وَاتَّقُوا الله ہی کو سپر بناؤ اور اللہ م کوسکھاتا ہے اور اللہ ہی ہر وَيُعَلِّمُكُمُ اللهُ وَاللَّهُ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيمٌ چیز کا بڑا جاننے والا ہے۔ے معاوضہ اور فیس دی جاوے رضا مندی کے ساتھ۔سے یعنی نقصان دو گے اور خلاف حکم الہی کرو گے۔(بقیه حاشیه) وَإِنْ تَفْعَلُوا یعنی نقصان دو گے اور خلاف حکم الہی کرو گے جو مذکور ہو چکے تو گناہ کی بات ہے۔