اوضح القرآن۔ قرآن مجید مترجم مع تفسیر — Page 1055
اليه يردّ ٢٥ ۱۰۵۵ الجاثية ٤٥ سُورَةُ الْجَاثِيَةِ مَكَّيَّةٌ وَّ هِيَ مَعَ الْبَسْمَلَةِ ثَمَانٍ وَّثَلَاثُونَ آيَةً وَّ اَرْبَعَةُ رُكُوعَاتٍ بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ ا۔ہم سورہ جاثیہ کو پڑھنا شروع کرتے ہیں اللہ کے اسم پاک سے جو بلا مبادلہ رحم کرنے والا کچی کوشش کو بے کار نہیں کرنے والا ہے۔۲۔بہت سی پیشگوئیاں ہیں جن کا وجود اب بوقوع ہو چکا۔تَنْزِيلُ الْكِتُبِ مِنَ اللهِ الْعَزِيزِ۔اس کتاب کا اتارنا اللہ عزیز حکیم کی طرف الْحَكِيمِ سے ہے۔اِنَّ فِي السَّمَوتِ وَالْأَرْضِ لَایتِ -۴۔کچھ شک نہیں کہ آسمانوں اور زمین میں بہت سی نشانیاں ہیں ماننے والوں کے لئے۔لِلْمُؤْمِنِينَ وَفِي خَلْقِكُمْ وَمَا يَبُثُّ مِنْ دَابَّةِ ايت ۵- اور تمہاری پیدائش میں بھی اور جانوروں میں بھی جن کو اللہ پھیلاتا ہے بہت سی نشانیاں ہیں اس قوم کے لئے جو یقین رکھتی ہے۔لِقَوْمٍ يُوقِنُونَ وَاخْتِلَافِ الَّيْلِ وَالنَّهَارِ وَمَا أَنْزَلَ اللهُ ٦ اور رات دن کے ہیر پھیر میں اور جو ا تارا۔مِنَ السَّمَاءِ مِنْ رِزْقٍ فَأَحْيَا بِهِ الْأَرْضَ بادل سے پانی پھر زندہ کر دیا زمین کو اس کے مرے بعد اور ہواؤں کے الٹ پلٹ میں بہت آیت نمبر ۳ - الْعَزِيزِ الْحَكِيمِ ـ غالب بر حل کام کرنے والا۔چونکہ لوگ دو قسم کے ہوتے ہیں۔ایک موٹی عقل کے جو کہ عزت اور شوکت اور دبدبہ سے ڈر کر مانتے ہیں۔دوسرے بار یک عقل کے جو کہ معقول پسند ہوتے ہیں۔اس لئے عزیز وحکیم دو ناموں کا ذکر کیا گیا ہے۔آیت نمبر ۵ - آیت نشانیاں۔اکثر اللہ تعالیٰ اپنی ہستی کے بے شمار دلائل میں سے قرآن شریف میں پانچ قسم کے دلائل بیان فرماتا ہے۔ایک تو دلائل فطرت جو ان کے اندر موجود ہیں۔دوسرے نظام عام پر غور کرنے سے جو پیدا ہوتے ہیں۔تیسرے جو انسان کے حالات پر نظر ڈالنے سے پیدا ہوتے ہیں۔چوتھے اولیاء اور انبیاء کے حالات پر نظر کرنے سے جو حاصل ہوتے ہیں۔پانچویں ایمان صحیح اور اعمال صالحہ کے بعد جو پیدا ہوتے ہیں۔