اوضح القرآن۔ قرآن مجید مترجم مع تفسیر

Page 1051 of 1464

اوضح القرآن۔ قرآن مجید مترجم مع تفسیر — Page 1051

اليه يردّ ٢٥ ۱۰۵۱ الدخان ٤٤ وَاتْرُكِ الْبَحْرَ رَهْوًا إِنَّهُمْ جُنْدٌ ۲۵۔اور دریا کو ٹھہرا ہوا چھوڑ جا (یعنی خشک ) بے شک وہ لشکر ڈ بائے جائیں گے۔مُّخْرَقُونَ كَمْ تَرَكُوا مِنْ جَنَّتٍ وَعُيُونٍ ۲۶۔یہ لوگ چھوڑ گئے بہت سے باغ اور چشمے۔وَزُرُوعٍ وَمَقَامِ كَرِيمٍ وَنَعْمَةِ كَانُوْا فِيهَا فَكِهِينَ ۲۷۔اور کھیتیاں اور عزت کے محل۔۲۸۔اور آرام کے سامان جس میں خوش رہا کرتے تھے۔كَذلِكَ وَأَوْرَثْهَا قَوْمًا أَخَرِيْنَ ۲۹۔یہ واقعہ ایسا ہی ہوا اور ان چیزوں کا وارث ہم نے دوسروں کو بنادیا۔فَمَا بَكَتْ عَلَيْهِمُ السَّمَاءِ وَالْأَرْضُ ٣٠۔تو اُن پر آسمان وزمین نہ روئے ( مذہبی اور دنیوی لوگ ) اور نہ اُن کو مہلت ملی نہ خود رو وَمَا كَانُوا مُنْظَرِينَ سکے اور نہ نادم ہو سکے۔وَلَقَدْ نَجَّيْنَا بَنِي إِسْرَاعِيْلَ مِن ٣١۔اور بے شک ہم نے نجات دی بنی اسرائیل کو ذلت کے عذاب سے۔الْعَذَابِ الْمُهينة مِنْ فِرْعَوْنَ إِنَّهُ كَانَ عَالِيًّا ۳۲۔جو فرعون کی طرف سے تھا۔کچھ شک نہیں کہ فرعون متکبر، زیادتی کرنے والا تھا۔مِنَ الْمُسْرِفِينَ وَلَقَدِ اخْتَرْتُهُمْ عَلَى عِلْمٍ عَلَى ۳۳۔اور ہم نے بنی اسرائیل کو پسند کیا اس وقت کے سب لوگوں پر۔الْعَلَمِينَ۔وَاتَيْنُهُمْ مِنَ الْآيَتِ مَا فِيهِ بَلّوا مُّبِينٌ ۳۴۔اور ان کو ہم نے کھلے کھلے نشان دیئے جس میں کھلا ہوا انعام تھا۔آیت نمبر ۲۹۔اور تھا۔وارث بنا دیا۔یہ غلط ہے جو بعض مفسرین نے سمجھا کہ فرعون کے ڈوبنے کے بعد بنی اسرائیل دریائے قلزم سے واپس مصر میں آگئے اور ملک کے مالک ہو گئے کیونکہ وہ کوہ سینا کی طرف چلے گئے تھے اور چالیس برس بیابان میں پھرتے رہے اور حضرت موسیٰ اور ہارون کا انتقال ہو گیا۔