اوضح القرآن۔ قرآن مجید مترجم مع تفسیر

Page 1046 of 1464

اوضح القرآن۔ قرآن مجید مترجم مع تفسیر — Page 1046

اليه يردّ ٢٥ الزخرف ٤٣ سُبْحَنَ رَبِّ السَّمَوتِ وَالْاَرْضِ ۸۳ پاک ذات ہے وہ جو آسمان وزمین کا رَبِّ الْعَرْشِ عَمَّا يَصِفُوْنَ۔رب ہے اور عرش کا رب ہے۔ان باتوں سے پاک ہے جو لوگ بیان کرتے ہیں ( یعنی اللہ کا کوئی بیٹا ہے نہ بیٹی )۔فَذَرْهُمْ يَخُوضُوا وَ يَلْعَبُوا حَتَّى يُلْقُوا ۸۴ تو ان کو چھوڑ دے اُن کی بک بک میں اور يَوْمَهُمُ الَّذِي يُوْعَدُونَ ) واہیات کھیل میں جب تک کہ ملاقات کریں اپنے اس دن سے جس دن کا ان سے وعدہ کیا جاتا ہے۔وَهُوَ الَّذِي فِي السَّمَاءِ إِلهُ وَ فِي الْأَرْضِ ۸۵۔وہی رب ہے آسمانوں میں معبود اور زمین میں معبود اور وہی بڑا حکمت والا بڑا اله وَهُوَ الْحَكِيمُ الْعَلِيمُ جاننے والا ہے۔وَتَبْرَكَ الَّذِى لَهُ مُلْكُ السَّمواتِ ۸۶ بڑی بابرکت ہے وہ ذات اور اسی کی سلطنت وَالْأَرْضِ وَمَا بَيْنَهُمَا ۚ وَعِنْدَهُ عِلْمُ آسمانوں اور زمین میں ہے اور جو کچھ ان دونوں کے بیچ میں ہے اور اسی کے نزدیک ہے قیامت کا السَّاعَةِ وَإِلَيْهِ تُرْجَعُونَ علم اور اسی کی طرف تم لوٹائے جاؤ گے۔وَلَا يَمْلِكُ الَّذِينَ يَدْعُونَ مِنْ دُونِهِ ۸۷۔اور وہ تو کچھ اختیار نہیں رکھتے جن کو تم الشَّفَاعَةَ إِلَّا مَنْ شَهِدَ بِالْحَقِّ وَهُمْ پکارتے ہو اللہ کے سوا شفاعت کرنے کے لئے مگر ہاں! جس نے گواہی دی کچی اور وہ جانتے ہیں۔يَعْلَمُونَ (بقیہ حاشیہ) لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ یا یوں ترجمہ ہے۔تو کہہ دے اگر رحمن کا کوئی بیٹا ہوتا تو سب سے پہلے میں اس کی پوجا کرنے والا ہوتا۔چونکہ اس کا کوئی بیٹا نہیں اس لئے میں خدا کے سوا کسی کا عابد نہیں۔عبد بِفَتْحِ الْبَاءِ - تَذَلَّلَ (اس نے تذلیل اختیار کیا )۔عَبدَ بِكَسْرِ الْبَاءِ - اَنْكَرَ (اس نے انکار کیا )۔آیت نمبر ۸۲ - وَعِنْدَهُ عِلْمُ السَّاعَةِ۔اس کے نزدیک ہے قیامت کا علم۔یہ دلیل ہے ابطال الوہیت مسیح کی اور یہ کہ قیامت کا علم اللہ کریم ہی کے پاس ہے مسیح کے پاس نہیں جیسا کہ انجیل مرقس باب ۱۴ آیت ۳۲ میں خود اس کا اقرار موجود ہے۔جو لوگ عِلْمُ السَّاعَةِ عیسی کو سمجھتے ہیں ان کو بتایا جاتا ہے کہ وہ عِلْمُ السَّاعَةِ یعنی عیسی اللہ کے پاس ہے جہاں تم نے جانا ہے اس نے نہیں آنا ہے۔فَإِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ۔آیت نمبر ۸۷- شَهِدَ بِالْحَقِّ۔گواہی دی کچی۔یہ بھی شفاعت کی صریح آیت اور رسول اللہ علیہ کے شفیع ہونے کی صاف وقطعی دلیل ہے۔شفیع نبی اور مامور ملہم وصالح ہوتا ہے یعنی وہ آ کر لوگوں کو راہ بتا تا ہے جس