اوضح القرآن۔ قرآن مجید مترجم مع تفسیر — Page 1043
اليه يردّ ٢٥ ۱۰۴۳ الزخرف ٤٣ وَاتَّبِعُونِ هَذَا صِرَاطٌ مُّسْتَقِيمُ علامت ہے تو تم قیامت سے شبہ نہ کرو اور میرا کہا مانو یہی سیدھا راستہ ہے۔وَلَا يَصُدَّ نَّكُمُ الشَّيْطَنُ إِنَّهُ لَكُمْ ۶۳۔اور تم کو روک نہ دے شریر ہلاک کرنے والا بے شک وہ تمہارا کھلا ہوا دشمن ہے۔عَدُوٌّ مُّبِينٌ وَلَمَّا جَاءَ عِيسَى بِالْبَيِّنَتِ قَالَ قَدْ ۶۴۔اور جب عیسی کھلے کھلے نشان لے کر آیا جِئْتُكُمْ بِالْحِكْمَةِ وَلِأُبَيَّنَ لَكُمْ بَعْضَ تو بولا بے شک میں تمہارے پاس لایا ہوں پختہ سمجھ کی باتیں اور نتیجہ یہ ہے کہ تم کو بتا دوں الَّذِي تَخْتَلِفُوْنَ فِيْهِ فَاتَّقُوا اللهَ وَأَطِيعُونِ بعض باتیں جس میں تم اختلاف کر رہے ہو تو اللہ ہی کو سپر بناؤ اور میرا کہا مانو۔ط اِنَّ اللهَ هُوَ رَيٌّ وَرَبِّكُمْ فَاعْبُدُوهُ هَذَا ۲۵۔بے شک اللہ وہی ہے میرا بھی ربّ اور تمہارا بھی رب۔تو خاص اسی کی عبادت کرو یہی صِرَاطٍ مُسْتَقِيمُ سیدھی راہ ہے۔فَاخْتَلَفَ الْأَحْزَابُ مِنْ بَيْنِهِمْ ۚ فَوَيْلٌ ۶۶۔تو مختلف ہو گئے ان میں سے فرقے۔تو افسوس ہی ہے ان پر جنہوں نے بے جا کام کیا لِلَّذِينَ ظَلَمُوا مِنْ عَذَابِ يَوْمٍ أَلِيْمِ دردناک عذاب کے دن سے۔هَلْ يَنْظُرُونَ إِلَّا السَّاعَةَ أَنْ تَأْتِيَهُمُ ۶۷۔کیا یہ لوگ منتظر ہیں الساعة کے تو وہ تو یکا یک آجائے گی اُن پر اور اُن کو شعور بھی نہ ہوگا۔بَغْتَةً وَهُمْ لَا يَشْعُرُونَ الْأَخِلَّاءُ يَوْمَبِذٍ بَعْضُهُمُ لِبَعْضٍ عَدُوٌّ۔اس دن جتنے دوست ہیں سب ایک ۶۸۔دوسرے کے دشمن ہو جائیں گے صرف متقی ہی نچ دوست بنے رہیں گے۔إِلَّا الْمُتَّقِينَ بُری گھڑی یا قیامت کے۔(بقیہ حاشیہ) مطلب یہ ہوا گویا مسیح تو اس کے پاس پہنچ چکے ہیں اور تم سب کو بھی اس کے پاس جانا ہے۔دوسرا مطلب یہ ہے جو کتاب یسعیاہ باب ۲۱ میں ہے اور انہ کی ضمیر اگر قرآن شریف کی طرف پھیریں جیسا کہ متن میں پھیری ہے تو کوئی یہ نہ سمجھے کہ پہلے قرآن کا ذکر کہاں ہے کیونکہ قرآن میں قرآن کی طرف بغیر ذکر مرجمع کے بھی ضمیر پھر سکتی ہے ے اِنَّا اَنْزَلْنَهُ فِي لَيْلَةِ الْقَدْرِ (القدر (۲) اور قرآن میں قیامت اور عیسی اور تمام ایمانیات کا علم ہے جو جامع دلیل ہے۔