اوضح القرآن۔ قرآن مجید مترجم مع تفسیر

Page 98 of 1464

اوضح القرآن۔ قرآن مجید مترجم مع تفسیر — Page 98

تلك الرسل ٣ ۹۸ البقرة ٢ الرّبُوا وَاَحَلَّ اللهُ الْبَيْعَ وَحَرَّمَ الرَّبوا بھی تو سود ہی کے جیسی ہے حالانکہ سوداگری کو فَمَنْ جَاءَهُ مَوْعِظَةٌ مِنْ رَّبِّهِ فَانْتَهى فَلَهُ الله نے حلال کیا اور سود کو حرام کیا تو جس کو اللہ کی نصیحت پہنچ چکی اور وہ باز آ گیا (سود کھانے مَا سَلَفَ وَاَمْرُةٌ إِلَى اللهِ وَمَنْ عَادَ سے) تو جو آگے لے چکا تو وہ اُسی کا ہے اور اُس فَأُوتيكَ اَصْحَبُ النَّارِ هُمْ فِيهَا خَلِدُونَ کا معاملہ اللہ کے حوالے ہے اور جس نے پھر سود هُ لیا تو یہی لوگ آگ والے ہیں وہ اُسی میں ہمیشہ رہیں گے۔يَمْحَقُ الله الرّبُوا وَيُرْبِي الصَّدَقْتِ وَاللهُ ۲۷۷۔اللہ سود کوگھٹاتا ہے اور خیرات کو پالتا ہے اور اللہ لَا يُحِبُّ كُلَّ كَفَّارٍ أَثِيم نا خوش ہے دوست نہیں رکھتا ہے ہر کا فر گنہگار کو۔اِنَّ الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّلِحَتِ ۲۷۸ جولوگ ایمان لائے اور بھلے کام کئے اور نماز کوٹھیک درست رکھا اور زکوۃ دیتے رہے تو ایسے لوگوں کو اُن کے رب کے پاس ثواب ہے اور وَأَقَامُوا الصَّلوةَ وَاتَوُا الزَّكُوةَ لَهُمُ (بقیہ حاشیہ) یہ ہے کہ بلا مبادلہ اپنا مال دوسرے کی ملک میں کردیں اس کے بعد حرمتِ ربا کا بیان کیا جس کی حقیقت یہ ہے کہ اپنا مال دوسرے کے سپر د اس شرط پر کریں کہ وہ مال مع شیئے زائد واپس ملے۔صدقہ اور ربا حقیقت میں ضِد ین ہیں تو صدقہ کے قبول کر لینے سے سود کے ترک پر انسان مستعد ہو جاتا ہے۔یہ ترتیب ہے۔اور سود کا ذکر اس لئے ہوا کہ وہ جہاد کو بڑا مضر ہے ایک آسامی ایسی ہوتی ہے کہ وہ قتل ہو جائے تو روپیہ ضائع ہونے کا ڈر ہے یا مقروض قرض کے ڈر سے کہیں غازی کو شہید نہ کر دے کہ رقم بچے۔علاوہ بریں سود خوار بخیل ہوتے ہیں۔ہر وقت روپیہ کے حساب اور اس پر سود لگانے کی سوچ میں رہتے ہیں یہاں تک کہ بعض راستے میں چلتے ہوئے بھی مدہوشوں کی طرح وہی شغل رکھتے ہیں یعنی گنتی اور حساب جمع کی فکر میں منہمک رہتے ہیں۔آیت نمبر ۲۷۷ - يَمْحَق الله الرّبوا اللہ سود کو گھٹاتا ہے۔بنیوں کے یہاں اسی لئے دیوالہ نکلتا ہے۔انگریز سود دیتے ہیں لیتے نہیں۔سود کے عقلی نقصان یہ ہیں کہ سود خوار سُست ہوتے ہیں۔اخلاق بد رکھتے ہیں۔حکومت نہیں کر سکتے۔سردست بہت سی رقم دے دیتے ہیں۔عجز وکسل میں مبتلا ہوتے ہیں اور قرض گیرندہ کے قتل یا خود کے قتل کا بھی ڈر ہے اس لئے جہاد کے ضمن میں آیا ہے۔اکثر ریاستیں امرا کی سود خواری سے ڈو میں۔