اوضح القرآن۔ قرآن مجید مترجم مع تفسیر — Page 1036
اليه يردّ ٢٥ ١٠٣٦ الزخرف ٤٣ وَقَالُوا لَوْ شَاءَ الرَّحْمٰنُ مَا عَبَدُنْهُمُ ۲۱۔اور یہ کہتے ہیں کہ اگر رحمن چاہتا تو ہم ان کی پوجا نہ کرتے۔اس بات کا تو ان کو علم نہیں ہے ہاں یہ تو صرف انکل ہی دوڑ ا ر ہے ہیں۔مَا لَهُمْ بِذلِكَ مِنْ عِلْمٍ إِنْ هُم إِلَّا يَخْرُصُونَ ) أَمْ أَتَيْنَهُمْ كِتبًا مِّنْ قَبْلِهِ فَهُمْ بِه ۲۲۔کیا ہم نے ان کو کتاب دی ہے قرآن سے فَ پہلے جس کو یہ مضبوط پکڑ رہے ہیں؟ مُسْتَمْسِكُونَ بَلْ قَالُوا إِنَّا وَجَدْنَا آبَاءَنَا عَلَى أُمَّةٍ وَإِنَّا ۲۳ - بلکہ یہ کہتے ہیں کہ ہم نے پایا اپنے باپ دادا کو ایک ہی دین پر۔ہم تو انہیں کے نشان عَلَى اثْرِهِم مُّهْتَدُونَ قدم پر چل رہے ہیں۔وَكَذَلِكَ مَا أَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ فِي قَرْيَةٍ ۲۴ - اسی طرح ہم نے بھیجا تجھ سے پہلے کسی مِنْ نَّذِيرٍ إِلَّا قَالَ مُتْرَفُوْهَا إِنَّا وَجَدْنَا گاؤں میں کوئی ڈرانے والا تو وہاں کے آسودہ لوگوں نے بھی کہا کہ ہم نے پایا اپنے باپ أبَاءَنَا عَلَى أُمَّةٍ وَإِنَّا عَلَى الرِهِم دادا کو ایک ہی دین اور جتھے پر اور ہم تو انہیں کے قدم بقدم ہورہے ہیں۔مقْتَدُونَ باپ دادا کی عامیا نہ تقلید کا جواب دیا جاتا ہے۔آیت نمبر ۲۲ - مُسْتَمْسِكُونَ۔مضبوط پکڑ رہے ہیں۔یہ غلط العام تقدیر کے خیال کا رڈ ہے یعنی کفار کا کہنا کہ خدا ہی کی مشیت و منشا کے موافق ہم غیروں کی پوجا کر رہے ہیں۔خدا فرماتا ہے کہ وہ جھوٹ بولتے ہیں اور انکل بازی کرتے ہیں۔یہ دو دلیلیں ہوئیں۔تیسری دلیل ارشاد ہوتی ہے کہ کیا ہماری کسی انگلی کتاب میں یہ لکھا ہے کہ غیر کی پوجا کرو جس کی تم سند پکڑتے ہو۔چوتھے ان کے علم کی سند دی کہ ہم نے اپنے باپ دادا کو یونہی پایا ہے اور ہم ان کی راہ پر چل رہے ہیں۔اس کا رڈ یوں فرمایا کہ تمہارے ماں باپ اگر نادان ہوں تو کیا جب بھی تم انہیں کی راہ پر چلو گے اور جو ان سے بڑھ کر ہدایت کی بات علم اور کتاب خدا سے توفیق پا کر پیش کرے اس کی بھی نہ مانو گے یہ بھی بڑی گمراہی کی بات ہے۔پھر پانچویں دلیل فرمائی کہ ہم نے ان کو سزا دی یعنی اگر وہ ہماری چاہتی بات ہوتی تو ہم انہیں سزا کیوں دیتے۔پھر چھٹی دلیل بیان فرمائی کہ مکڈ مین کے انجام سے عبرت پکڑو۔پھر ابراہیم کا اپنے کو بری کہنا غیروں کی پوجا سے یہ ساتویں دلیل ہے۔