اوضح القرآن۔ قرآن مجید مترجم مع تفسیر — Page 1035
اليه يردّ ٢٥ ۱۰۳۵ الزخرف ٤٣ لَهُ مُقْرِنِينَ وَإِنَّا إِلَى رَبَّنَا لَمُنْقَلِبُونَ ہم قابو میں نہ لا سکتے تھے۔۱۵۔اور ہمیں تو اپنے رب ہی کی طرف ضرور لوٹ جانا ہے۔وَجَعَلُوْا لَهُ مِنْ عِبَادِهِ جُزْءًا إِنَّ ١٦۔اور لوگوں نے ٹھہرایا اللہ کے بندوں میں سے نچ ایک جزء بے شک انسان بڑا ہی ناشکرا ہے۔الْإِنْسَانَ لَكَفُورٌ مُّبِينٌ امِ اتَّخَذَ مِمَّا يَخْلُقُ بَنْتِ وَاَصْفُكُمْ ۱۷ - کیا اللہ نے اپنی مخلوقات میں سے بیٹیاں ہی لے لیں اور تم کو چن چن کر بیٹے دے دیئے۔بِالْبَنِينَ وَإِذَا بُشِّرَ أَحَدُهُمْ بِمَا ضَرَبَ لِلرَّحْمَنِ ۱۸۔حالانکہ جب ان لوگوں کولڑ کی پیدا ہونے کی خوش خبری دی جاتی ہے جس کی وہ نسبت کرتے مَثَلًا ظَلَّ وَجْهُهُ مُسْوَدًا وَهُوَ كَظِيمٌ ہیں رحمن کی طرف مثال دے کر تو اس کا چہرا کالا تو ا ہو جاتا ہے اور وہ اندر ہی اندر گھٹا جاتا ہے۔اَوَمَنْ يُنَشَّوا فِي الْحِلْيَةِ وَهُوَ ۱۹۔کیا بیٹی ذات جو پرورش پائے زیوروں میں فِي الْحِصَامِ غَيْرُ مُبِينٍ اور وہ جھگڑے کے وقت میں صاف بات بھی نہیں کرسکتی ( تو کیا اللہ کے لئے ایسی چیز مقرر کرتے ہو۔وَجَعَلُوا الْمَلَبِكَةَ الَّذِينَ هُمُ ۲۰۔اور انہوں نے فرشتوں کو جو رحمن کے عِبْدُ الرَّحْمَنِ اِنَانًا اَشَهِدُوا خَلْقَهُمْ بندے ہیں عورت ذات اور دیوی قرار دیا کیا تم موجود تھے ان کے پیدا ہوتے وقت؟ قریب ہی ستَكْتَبُ شَهَادَتُهُمْ وَيُسْتَلُوْنَ لکھ لی جائے گی ان کی بات (یعنی یہ بات محفوظ رکھیں گے ) اور اُن سے باز پرس ہوگی۔آیت نمبر ۱۶۔جزءا۔ایک جزء۔یہ ہندوؤں کا اور مشرکوں کا رڈ ہے جو فرشتوں کو خدا کی بیٹیاں کہتے ہیں اور مورتیں اور دیویاں بنالیں اور بعض نے اور مخلوق کو خدا کا بیٹا مانا جیسے نصاری نے عیسی کو وغیرہ وغیرہ۔لَكَفُور۔خدا کا بیٹا بیٹی بنانے والوں نے خدا کے رحم کا جس کے دلائل واضح ہیں اور اس کے دربار میں عزت پانے کا جس کا دروازہ ہر ایک کے لئے کھلا ہے انکار کیا۔اس کے رحم کے لئے یا اس کے دربار میں پہنچنے کے لئے وسائل کا اختراع کرنے لگے پس خدا کی طرف غلط کا منسوب کرنا ناشکری ہے اور خدا کی بے قدری ہے۔