اوضح القرآن۔ قرآن مجید مترجم مع تفسیر — Page 1031
اليه يردّ ٢٥ ۱۰۳۱ الشورى ٤٢ مَا يَشَاءُ يَهَبُ لِمَنْ تَشَاءُ إِنَاثًا وَيَهَبُ زمین میں جو چاہتا ہے پیدا کرتا رہتا ہے۔جس کو چاہتا ہے بیٹیاں عطا فرماتا ہے اور جسے چاہتا لِمَنْ يَّشَاءُ الذُّكُورَة ہے بیٹے عنایت کرتا ہے۔أو يُزَوِّجُهُمْ ذُكْرَانًا وَإِنَاثًا وَيَجْعَلُ ۵۱ - یا دونوں یعنی بیٹے بیٹیاں۔اور بنا دیتا ہے مَنْ يَشَاءُ عَقِيمًا إِنَّهُ عَلِيْمٌ قَدِيرٌ جسے چاہتا ہے بانجھ۔بیشک وہ بڑا جاننے والا اور بڑا اندازہ کرنے والا ہے۔وَمَا كَانَ لِبَشَرِ أَنْ يُكَلَّمَهُ اللهُ إِلَّا وَحْيَا ۵۲۔اور کسی بشر کی طاقت نہیں کہ اللہ اس سے اَوْ مِنْ وَرَآئِ حِجَابٍ اَوْ يُرْسِلَ رَسُولًا بات کرے (یعنی رو برد) مگر وحی کے ذریعہ سے یا پردے کے پیچھے سے ( رؤیا و کشف کے ذریعہ آیت نمبر ۵۰- انانا۔بیٹیاں۔اس آیت میں پہلے لڑکیوں کا ذکر ہے پھر لڑکوں کا۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ لڑکیئیں زیادہ ہوتی ہیں اور لڑکے اس سے کم اور متوسط اس سے کم یعنی لڑکے لڑکیاں دونوں ایک گھر میں اور اس سے کم بانجھ۔یہاں تین صورتیں بتائیں ہیں (۱) صرف لڑکیاں (۲) صرف لڑکے (۳) اويُزَوِّجُهُمْ میں چار صورتیں بتائیں (۱) لڑکے لڑکیاں (۲) بصورت توام (۳) دونوں کی خاصیت والی اولاد۔(۴) مردو عورت عقیم مختوں کو اس چوتھی شکل میں داخل فرمایا ہے۔آیت نمبر ۵۲ - إِلَّا وَحْيَّا۔مگر وحی کے ذریعہ سے۔جیسا اندھا پہچانے ہوئے شخص کی آواز اور کلام کو پہچانتا ہے اور غلطی نہیں کرتا اسی طرح ملہم و صاحب وحی خدا کی آواز پہچان لیتا ہے۔اور وحی کی تین ترکیبیں ہیں (۱) پہلے تو وحی ورائے حجاب ہے جو خاص حجاب ہے (۲) رسول کو بھیجنا۔یہ دو قسم ہیں۔رسول بشر یا رسول ملائک۔(۳) رویا و کشف۔لفظ وحی سن کر عوام گھبرا اٹھتے ہیں حالانکہ تین صورتیں وحی سے تعبیر کی گئی ہیں۔وحی کے لفظی معنے صرف اشارہ کے ہیں۔وَحُیا میں عام خواب وغیرہ ہیں۔جیسا کہ بَابُ الْبَعْثِ وَ بَدْءُ الْوَحْيِي اور حدیث بخاری وغیرہ اس پر شاہد ناطق ہیں اور مِنْ وَّرَاءِ حِجَاب یہ بھی ایک قسم کی وحی ہے جو اولیاء اور اہل اللہ کو ہوتی ہے۔ان کے مکاشفات اکثر تعبیر طلب ہوتے ہیں اور جب تک تعبیر و ظہور کا وقت نہ آوے ان پر حجاب پڑے رہتے ہیں۔تیسرے يُرْسِلَ رَسُولًا۔یہ وَحی متلو ہے اس کی عبارت بھی اگلی دو قسموں کی وحی سے زیادہ اور ابلغ و احسن اور با احکام و اوامر و نواہی مجسم شریعت الہیہ ہوتی ہے۔اس کلام کی حفاظت اللہ تعالیٰ کی طرف سے زبر دست پہروں اور ملائک کے ساتھ ہوتی ہے اور مداخلت شیطانی و قوت فکر یہ اور وہمیہ خیالیہ عادات و طبائع اور قرینہ و قیاس وغیرہ کا وسواس اس میں کسی قسم کی دست اندازی نہیں کرسکتا۔چنانچہ سورۂ جن کی اخیر آیت وَ مِنْ خَلْفِهِ رَصَدًا (الجن: ۲۸) میں مذکور ہے۔