اوضح القرآن۔ قرآن مجید مترجم مع تفسیر — Page 1016
اليه يردّ ٢٥ 1+17 السجدة ٤١ وَلَوْلَا كَلِمَةٌ سَبَقَتْ مِنْ رَّبَّكَ لَقُضِيَ شریف کا بھی انکار کیا گیا ) اور اگر ایک بات پہلے نہ ہو چکی ہوتی تیرے رب کی طرف سے تو بَيْنَهُمْ وَإِنَّهُمْ لَفِي شَكٍّ مِّنْهُ مُرِيبٍ ضروران میں فیصلہ کر دیا جاتا اور بے شک یہ لوگ قرآن کی طرف سے بڑے شک و ہلاکت میں پڑے ہوئے ہیں۔مَنْ عَمِلَ صَالِحًا فَلِنَفْسِهِ وَمَنْ أَسَاءَ ۲۷ - (خیر ) جس نے نیک عمل کیا تو اپنی ذات ۴۷۔کے لئے کیا اور جس نے بدکاری کی تو اس کا وبال فَعَلَيْهَا وَمَارَبُّكَ بِظَلَّامٍ لِلْعَبِيدِ اسی پر ہے اور تیرا رب تو بندوں پر کچھ بھی ظلم کرنے والا نہیں۔إِلَيْهِ يُرَدُّ عِلْمُ السَّاعَةِ وَمَا تَخْرُجُ ۴۸۔اللہ ہی کی طرف حوالہ کیا جاتا ہے قیامت کا مِنْ ثَمَرَتٍ مِنْ أَكْمَا مِهَا وَمَا تَحْمِلُ مِنْ علم اور جو نکلتے ہیں پھل اپنے گا بھوں میں سے اور جو کسی مادہ کو پیٹ رہتا ہے یا جنتی ہے مگر یہ أنْثَى وَلَا تَضَعُ إِلَّا بِعِلْمِهِ وَيَوْمَ سب کام اللہ ہی کے علم کے مطابق ہیں اور جس يُنَادِيهِمْ أَيْنَ شُرَكَاعِى قَالُوا أَذَنَّكَ دن اللہ ان کو پکارے گا کہ میرے شریک کہاں ہیں وہ کہیں گے کہ ہم نے تو تجھ کو کہہ سنایا تھا کہ مَا مِنَّا مِنْ شَهيدة ہم میں سے اس بات کا کوئی گواہ نہیں۔ا یعنی خاتم النبی کا آنا اور آپ کے وجود شریف کا قوم میں ہونا موجب تاخیر عذاب ہے جب آپ مکہ سے تشریف لے جائیں گے پھر عذاب نازل ہوگا۔آیت نمبر ۴۸ - عِلْمُ السَّاعَةِ۔گھڑی کا علم۔یہ جواب ہے۔عذاب کب آئے گا۔قیامت کب آئے گی۔السَّاعَة سے مراد وہ گھڑی بھی ہے جس میں کسی قوم پر عام تباہی آجائے مصیبت و آفت کی گھڑی۔اكْمَا مِهَا۔گا بھے ، خوشبو، گم یا گمہ۔ان پردوں پر بولتے ہیں جو میوے یا پھل کے اوپر لیٹے ہوئے ہوتے ہیں جس کو دکن میں ٹوپن کہتے ہیں جو پھلوں کو چھپانے والے ہوتے ہیں اس لئے اس کو بھی گم کہتے ہیں۔آستین ہاتھوں کو چھپاتی ہیں۔اذنك - سنایا تھا۔یعنی تیری خدمت میں ہم نے عرض کر دی تھی کہ ان میں سے کوئی نظر نہیں آتا جس کی اصل ہو اور اس وقت ہم میں سے کوئی شہادت بھی نہیں دے سکتا کہ اللہ کا کوئی شریک ہے۔