اوضح القرآن۔ قرآن مجید مترجم مع تفسیر — Page 1011
فمن اظلم ٢٤ 1+11 السجدة ٤١ وَذَلِكُمْ ظَنُّكُمُ الَّذِى ظَنَنْتُمْ بِرَبِّكُمْ ۲۴۔اور یہ بدگمانی (یعنی اللہ نادان ہے خبیر نہیں ) جو تم نے اپنے رب کے حق میں کی۔اُس اَز دُنكُمْ فَأَصْبَحْتُمْ مِّنَ الْخَسِرِينَ نے تو تم کو تباہ ہی کر دیا اب تو تم بڑے نقصان میں آگئے۔فَإِنْ تَصْبِرُوا فَالنَّارُ مَثْوًى لَهُمْ وَ اِن -۲۵ تو اگر یہ لوگ صبر کریں (یعنی ناشائستہ حرکت يَسْتَعْتِبُوا فَمَا هُمْ مِّنَ الْمُعْتَبِينَ پر جمے رہیں ) تو ان کا ٹھکانا آگ ہی ہے اور اگر وہ معافی اور دہلیز کے قریب پھٹکنا چاہیں تو ان کو معافی نہیں دی جائے گی نہ دہلیز کے قریب آسکیں گے۔وَقَيَّضْنَا لَهُمْ قُرَنَاءَ فَزَيَّنُوْالَهُمْ مَّا بَيْنَ ٢٦۔اور پھر یہ بھی ہے کہ ہم نے تعینات کر دئے ۲۶۔أَيْدِيهِمْ وَمَا خَلْفَهُمْ وَحَقٌّ عَلَيْهِمُ ان پر ہم نشین تو انہوں نے پسند کر دکھائے ان کے کھلے اور چھپے کام اور ان پر ثابت ہو گئی پیش گوئی الْقَوْلُ فِي أُمَمٍ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِمْ مِنَ عذاب کی اُن امتوں کے ساتھ جو پہلے گزر چکے الْجِنَّ وَالْإِنْسِ إِنَّهُمْ كَانُوا خَسِرِينَ ، میں امراء غرباء میں سے کچھ شک نہیں کہ وہ سب کے سب نقصان پانے والے تھے۔وَقَالَ الَّذِيْنَ كَفَرُوا لَا تَسْمَعُوا لِهَذَا ۲۷۔اور کافروں نے کہا کان بھی نہ لگایا کرو اس قرآن کے سننے میں اور شور وغل مچادیا کرواس الْقُرْآنِ وَالْغَوْا فِيْهِ لَعَلَّكُمْ تَغْلِبُونَ میں تا کہ تم غالب آ جاؤ۔فَلَنُذِيقَنَّ الَّذِينَ كَفَرُ وا عَذَابًا شَدِيدًا -۲۸ تو ہم ضرور ضرور کافروں کو سخت عذاب لے اس سے بڑھ کر کیا نقصان کہ ایمان گیا اور شرک اور کفر آ گیا۔آیت نمبر ۲۵ - فَمَا هُم مِّنَ الْمُعْتَبِینَ۔اور وہ دہلیز کے قریب پھٹکنے والوں سے نہیں۔دہلیز کے قریب نہ آنے کا یہ مطلب ہے کہ وہ قابل معافی نہیں رہے۔گناہ کے مشتاق ہو گئے ہیں۔گناہ سے باز نہ آسکیں گے۔آیت نمبر ۲۶ - قرناء۔ہم نشین ان کے تقاضائے طبعی کے موافق ہم نے تعینات کر دیئے جیسے وہ آپ ہوتے ہیں ویسے ہی ان کے دوست ہوتے ہیں۔