اوضح القرآن۔ قرآن مجید مترجم مع تفسیر — Page 94
تلك الرسل ٣ ۹۴ البقرة ٢ لا ثُمَّ لَا يُثْبِعُوْنَ مَا انْفَقُوْا مَنَّا وَ لَا أَذًى نه تکلیف دیتے ہیں اُن کا اجر اُن کے رب کے لَهُمْ أَجْرُهُمْ عِنْدَ رَبِّهِمْ ۚ وَلَا خَوْفٌ پاس ہے اور نہ ان کوکسی قسم کا آئندہ خوف ہو گا اور نہ وہ گزشتہ ہی عمل کے لئے غمگین ہوں گے۔عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُونَ قَوْلُ مَّعْرُوفٌ وَمَغْفِرَةٌ خَيْرٌ مِنْ صَدَقَةٍ ۲۶۴۔بھلی بات کہہ دینا اور استغفار کرنا بہتر ہے اُس خیرات سے جس کے پیچھے اذیت اور يتبعهَا أَذًى وَاللَّهُ غَنِيٌّ حَلِيمٌ تکلیف دینا ہواوراللہ غنی اور بڑا بُردبار ہے۔يَايُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تُبْطِلُوا صَدَقْتِكُمْ ۲۶۵۔اے ایمان دارو! اکارت نہ کرو اپنی بِالْمَنِ وَالْأَذَى كَالَّذِي يُنْفِقُ مَالَهُ رِئَاءَ خیرات احسان جتا کر اور ایذا دے کر اُس شخص b کی طرح جو خرچ کرتا ہے اپنا مال لوگوں کے النَّاسِ وَلَا يُؤْمِنُ بِاللهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ دکھانے کو اور اللہ کو نہیں مانتا اور نہ مرکر جینے کو تو ط فَمَثَلُهُ كَمَثَلِ صَفْوَانٍ عَلَيْهِ تُرَاب اس کی خیرات کی مثال ایسی ہے جیسی ایک ڈھلوان فَأَصَابَهُ وَابِلٌ فَتَرَكَهُ صَلْدًا سِل جس پر مٹی پڑی ہے پھر برسی اُس پر سخت بارش لَا يَقْدِرُونَ عَلَى شَيْءٍ مِّمَّا كَسَبُوا تو چھوڑ گئی اس کو یا) وہ رہ گئی سپاٹ رسل نہ ہاتھ لگے گا اُن کے کچھ اُس چیز سے جو کچھ بو یا انہوں وَاللَّهُ لَا يَهْدِى الْقَوْمَ الْكَفِرِينَ نے اور اللہ کا میاب نہیں کرتا قوم کا فرمنکر کو۔وَمَثَلُ الَّذِينَ يُنْفِقُونَ أَمْوَالَهُمُ ابْتِغَاء ۲۶۶۔اور اُن کی مثال جو خرچ کرتے ہیں اپنے مال اللہ کو خوش کرنے کے لئے اور اپنی نیت ثابت رکھ کر جیسے ایک باغ ہے دریا کی ترائی کی زمین کا مَرْضَاتِ اللهِ وَتَثْبِيتًا مِنْ أَنْفُسِهِمْ آیت نمبر ۲۶۴ - قَوْلٌ مَّعْرُوف۔بھلی بات کہہ دینا۔بھلی بات کہہ دے اور استغفار کرے۔حضرت سیدنا عبدالقادر جیلانی نے فرمایا کہ سائل کے دو حال میں سچا مسکین یا ز بر دستی کا یعنی حریص۔اب مغطی کے بھی دو حال ہیں مخلص بے درم یار یا کار خیل دونوں ذلت کی حالت میں ہیں تو استغفار کرنا چاہئے اور دوسرے درحقیقت استغفار کے قابل حالت رکھنے والے ہیں۔آیت نمبر ۲۶۶ - تَثْبِيْتًا مِنْ أَنْفُسِهِمْ۔اپنی نیت ثابت رکھ کر یعنی کسی کے کہنے سننے یا فوری جوش سے نہ ہو۔دل کی خوشی اور ثبات اعتقاد سے۔