اوضح القرآن۔ قرآن مجید مترجم مع تفسیر — Page 1000
فمن اظلم ٢٤ المؤمن٤٠ وَمَا يَسْتَوِى الْأَعْلَى وَالْبَصِيرُ ۵۹۔اور اندھا اور دیکھنے والا برابر نہیں ہوسکتا۔اور جو ایمان لائے اور بھلے کام کئے اور بدکار وَالَّذِينَ آمَنُوْا وَعَمِلُوا الصَّلِحَتِ وَلَا برابر نہیں ہو سکتے تم غور بہت ہی کم کرتے ہو۔الْمُسِيءُ قَلِيْلًا مَّا تَتَذَكَّرُونَ اِنَّ السَّاعَةَ لَآتِيَةٌ لَّا رَيْبَ فِيهَا وَلكِنَّ ٢٠ - کچھ شک نہیں کہ قیامت ضرور آنے والی ہے اُس کے آنے میں کچھ بھی شک نہیں لیکن بہت سے آدمی جانتے ہی نہیں۔أَكْثَرَ النَّاسِ لَا يُؤْمِنُوْنَ ) وَقَالَ رَبُّكُمُ ادْعُونِي أَسْتَجِبْ لَكُمْ ۶۱۔اور تمہارا رب فرماتا ہے کہ تم مجھ سے دعا مانگو اِنَّ الَّذِينَ يَسْتَكْبِرُونَ عَنْ عِبَادَتِي میں تمہاری دعا قبول کروں گا تو تکبر کرنے والے میری عبادت سے قریب ہی جہنم میں داخل ہوں گے ذلیل بن کر۔سَيَدْخُلُوْنَ جَهَنَّمَ دُخِرِيْنَ ® اللَّهُ الَّذِي جَعَلَ لَكُمُ الَّيْلَ لِتَسْكُنُوا فِيهِ ۶۲ - اللہ وہ ذات ہے جس نے تمہارے لئے وَالنَّهَارَ مُبْصِرًا إِنَّ اللَّهَ لَذُو فَضْلٍ عَلَى رات کو بنایا تا کہ تم اس میں آرام کرو اور دن بنا دیا ہے سب چیزوں کے دکھلانے کو۔کچھ النَّاسِ وَلَكِنَّ أَكْثَرَ النَّاسِ شک نہیں کہ اللہ بڑا فضل رکھتا ہے لوگوں پر لیکن لَا يَشْكُرُونَ اکثر لوگ شکر گزاری ہی نہیں کرتے۔آیت نمبر ۶۱ - اُدْعُونِي أَسْتَجِبْ لَكُمْ۔تم مجھ سے دعا مانگو میں تمہاری دعا قبول کروں گا۔شرائط دعایہ ہیں۔دعا کرنے والا ذی ہمت وفادار مضطر۔قومی الامید مخلص۔متقی ہو اور امتحان کرنے والا اور شرط کرنے والا اور دَنِيُّ الهمت۔غدار۔بے فکر۔نا امید۔ریا کار فاسق نہ ہو اور وَلَنَبْلُوَنَّكُمْ کے محل پر نہ ہو تو ایک نہر لطیف مُصَفّى آب زلال کی قلب داعی کے بشری سرچشمہ سے جاری ہو جائے گی اور اللہ کا بحر عظیم الشان رحمت ،فضل نا متناہی کے آب حیات کا احسان کے آسمان سے جاری ہو گا اور اس نہر بشری پر محیط ہو جائے گا اور اس کو کامیابی سے مالا مال کر دے گا اور اگر کسی سے دعا کرانا ہو تو یہ شرائط ہیں۔امتحان کنندہ اور شرط کنندہ نہ ہوا ور قوی الامید اور صابر اور خاشع اور خاضع اور نا کامیابی سے گو کئی بار ہوئی ہو ملول نہ ہو اور دعا کرنے والے پر مضبوط اعتقاد اور خلوص کامل اور محبت وافر رکھتا ہو اور اس کو اپنے پر جس طرح ہو سکے خدمت وغیرہ سے ایسا مہربان کر لے کہ وہ اس کے ساتھ شفقت مادرانہ کرتے اور اس کے درد کو اپنا درد سمجھے۔( من ارشادات مرشد نا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام )