اوضح القرآن۔ قرآن مجید مترجم مع تفسیر — Page 997
فمن اظلم ٢٤ ۹۹۷ المؤمن ٤٠ تَدْعُونَنِي لِاكْفَرَ بِاللهِ وَأُشْرِكَ بِهِ مَا ۴۳۔تم تو مجھے ادھر بلاتے ہو کہ میں اللہ کا منکر بن جاؤں اور اللہ کے جیسا کسی اور کو بھی سمجھ لَيْسَ لِي بِهِ عِلْمٌ وَاَنَا اَدْعُوكُمْ إِلَى لوں جس چیز کا مجھے کچھ بھی علم نہیں اور میں تو تم کو الْعَزِيزِ الْغَفَّارِ بلاتا ہوں بڑے زبر دست غفار کی طرف۔لَا جَرَمَ أَنَّمَا تَدْعُونَنِي إِلَيْهِ لَيْسَ لَهُ ۴۴۔حق بات تو یہ ہے کہ جس کی طرف تم مجھ کو بلاتے ہو اس کا بلاوا تو نہ دنیا میں چلتا ہے نہ آخرت میں اور کچھ شک نہیں کہ ہم کو لوٹ جانا دَعْوَةٌ فِي الدُّنْيَا وَلَا فِي الْآخِرَةِ وَاَنَّ مَرَدَّنَا إِلَى اللهِ وَأَنَّ الْمُسْرِفِينَ هُمْ ہے اللہ ہی کی طرف اور یہ زیادتیاں کرنے والے ہی دوزخی ہیں۔أصْحَبُ النَّارِ فَسَتَذْكُرُونَ مَا أَقُولُ لَكُمْ وَاُفَوّضُ ۴۵ تو قریب ہی تم یاد کرو گے جو میں تم سے کہتا أَمْرِى إِلَى اللهِ إِنَّ اللهَ بَصِيرَ بِالْعِبَادِ ہوں اور میں تو اپنا کام سونپتا ہوں اپنے ہی اللہ کو۔کچھ شک نہیں کہ اللہ بڑا دیکھنے والا ہے بندوں کا۔فَوَقْهُ اللهُ سَيَّاتِ مَا مَكَرُوا وَحَاقَ بِالِ ۴۶۔تو اللہ نے بچالیا اُن کی بُری تجویز سے اور الٹ پڑا فرعون کے لوگوں پر بُرا عذاب۔فِرْعَوْنَ سُوءُ الْعَذَابِ النَّارُ يُعْرَضُونَ عَلَيْهَا غُدُوا وَعَشِيًّا ۴۷۔وہ آگ ہے کہ اس پر حاضر کئے جاتے ہیں قف وَيَوْمَ تَقُوْمُ السَّاعَةُ أَدْخِلُوا ال فِرْعَوْنَ أَشَدَّ الْعَذَابِ۔لے یہ عذاب قبر کا ثبوت ہے۔صبح و شام کے اور جس دن قیامت قائم ہوگی تو حکم ہوگا کہ داخل کرو فرعون والوں کو سخت سے سخت عذاب میں۔(بقیہ حاشیہ) باب ۵ آیت ۱۰ سے ظاہر ہے۔یہ تعمیرات کا کوئی افسر یا معین المہام سرکاری ہے۔آیت نمبر ۴۴۔لَا جَرَم۔حق بات تو یہ ہے یہ ترجمہ ہے لا جرم کا اس میں لا یا تو زائد ہے یا تا کیدی ہے یا یہ کہ ترجمہ یوں ہوگا یہ بات کٹ نہیں سکتی یعنی کچی اور بے عیب بات ہے۔آیت نمبر ۴۷۔غُدُوا وَ عَشِيًّا - صبح اور شام۔بخاری و مسلم وغیرہ نے ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کیا ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا کہ ہر میت کو صبح و شام اس کا اصل ٹھکانا دکھایا جاتا ہے۔اگر جہنمی ہے تو جہنم جنتی ہے تو جنت