ناموسِ رسالت ؐ پر حملوں کا دفاع

Page 423 of 516

ناموسِ رسالت ؐ پر حملوں کا دفاع — Page 423

423 دوسرا آدمی جس نے فلم ڈائریکٹ کی ہے، یہ پورنوگرافیز موویز کا ڈائریکٹر ہے۔اس میں جواورا یکٹر شامل ہیں وہ سب پورنوگرافکس موویز کے ایکٹر ہیں۔تو یہ ان کے اخلاق کے معیار ہیں۔اور پورنوگرافیر کی جو حدود ہیں وہ تو آدمی سوچ بھی نہیں سکتا۔یہ لوگ کس گند میں ڈوبے ہوئے ہیں اور اعتراض اُس ہستی پر کرنے چلے ہیں جس کے اعلیٰ اخلاق اور پاکیزگی کی خدا تعالیٰ نے گواہی دی۔یہ فلم بنانے والے خدا کے عذاب سے نہیں بچ سکتے پس یہ غلاظت کر کے انہوں نے یقیناً خدا تعالیٰ کے عذاب کو دعوت دی ہے اور دیتے چلے جا رہے ہیں۔اسی طرح اس فلم کے سپانسر کرنے والے بھی خدا تعالیٰ کے عذاب سے نہیں بچ سکتے۔ان میں ایک وہ عیسائی پادری بھی شامل ہے جو مختلف وقتوں میں امریکہ میں اپنی سستی شہرت کیلئے قرآن وغیرہ جلانے کی بھی کوشش کرتا رہا ہے۔اللھم مَزِّقُهُمْ كُلَّ مُمَزَّقٍ وَسَحِقُهُمْ تَسْحِيقاً یہ سب کچھ مسلمانوں کی اکائی اور لیڈرشپ نہ ہونے کی وجہ سے میڈیا میں بعض نے مذمت کرنے کی بھی کوشش کی ہے اور ساتھ ہی مسلمانوں کے رد عمل کی بھی مذمت کی ہے۔ٹھیک ہے غلط رد عمل کی مذمت ہونی چاہئے لیکن یہ بھی دیکھیں کہ پہل کرنے والا کون ہے۔بہر حال جیسا کہ میں نے کہا مسلمانوں کی بدقسمتی ہے کہ یہ سب کچھ مسلمانوں کی اکائی اور لیڈرشپ نہ ہونے کی وجہ سے ہورہا ہے۔دین سے تو باوجود عشق رسول کے دعویٰ کے یہ لوگ دُور ہٹے ہوئے ہیں۔دعوئی تو بیشک ہے لیکن دین کا کوئی علم نہیں ہے۔دنیاوی لحاظ سے بھی کمزور ہوتے چلے جا رہے ہیں۔کسی مسلمان ملک نے پرزور احتجاج نہیں کیا۔اگر کیا ہے تو اتنا کمزور کہ میڈیا نے اس کی کوئی اہمیت نہیں دی۔اور اگر مسلمانوں کے احتجاج پر کوئی خبر لگائی بھی ہے تو یہ کہ ایک اعشاریہ آٹھ بلین مسلمان بچوں کی طرح رو عمل دکھا رہے ہیں۔جب کوئی سنبھالنے والا نہ ہو تو پھر اِدھر اُدھر پھرنے والے ہی ہوتے ہیں۔پھر رد عمل بچوں جیسے ہی ہوتے ہیں۔اس لحاظ سے ایک طنر بھی کر دیا لیکن حقیقت بھی واضح کر دی۔اب بھی خدا کرے کہ مسلمانوں کو شرم آ جائے۔یہ لوگ جن کے دین کی آنکھ تو اندھی ہے، جن کو انبیاء کے مقام کا پتہ ہی نہیں ہے، جو حضرت عیسیٰ علیہ الصلوۃ والسلام کے مقام کو بھی گرا کر خاموش رہتے ہیں، اُن کو تو مسلمانوں کے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے جذبات کا اظہار بچوں کی طرح کا رد عمل نظر آئے گا۔لیکن بہر حال جیسا کہ میں نے کہا کہ 2006ء میں بھی میں نے توجہ دلائی تھی کہ اس طرف توجہ کریں اور ایک ایسا ٹھوس لائحہ عمل بنا ئیں کہ آئندہ ایسی بیہودگی کی کسی کو جرات نہ ہو۔کاش کہ مسلمان ملک یہ سن لیں اور جو اُن تک پہنچ سکتا ہے تو ہر احمدی کو پہنچانے کی بھی کوشش کرنی چاہئے۔چار دن کا احتجاج کر کے بیٹھ جانے سے تو یہ مسئلہ حل نہیں ہو گا۔رو