ناموسِ رسالت ؐ پر حملوں کا دفاع

Page 397 of 516

ناموسِ رسالت ؐ پر حملوں کا دفاع — Page 397

397 پھر آپ فرماتے ہیں: " خدا غضب میں دھیما ہے تو بہ کرو تا تم پر رحم کیا جائے۔جو خدا کو چھوڑتا ہے وہ کیڑا ہے نہ کہ آدمی۔اور جو اُس سے نہیں ڈرتا وہ مُردہ ہے نہ کہ زندہ۔" (حقیقۃ الوحی۔روحانی خزائن جلد 22 صفحہ 269 مطبوعہ لندن) خطبات مسرور جلد 5 صفحہ 344 تا 350) "فتنہ " نام سے ولڈرز کی فلم کی ناپاک جسارت غیرت ولڈرز کی اسلام ، بانی اسلام، قرآن کریم اور مسلمانوں کے خلاف نفرت کا بخار وقت گزرنے کے ساتھ بڑھتا چلا گیا۔ملک کے سماجی ، سیاسی ، مذہبی پادریوں کی طرف سے اس موقف کی مخالفت اور سمجھانے کے باوجود اسلام مخالف نفرت کے بخار کا درجہ اوپر سے اوپر جاتارہاتی کہ اسلام اور قرآن کے خلاف اس نے ایک فلم "فتنہ " کے نام سے 27 مارچ 2008 ء کو جاری کر دی۔جس میں اس نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات اور قرآن کریم کے بارے میں نہایت نا مناسب اور توہین آمیز الفاظ استعمال کئے اور لکھا کہ قرآن مجید دہشت گردی کی تعلیم دیتا ہے۔اس کا آدھا حصہ پھاڑ کر ( نعوذ باللہ ) الگ کر دینا چاہیے۔اس سے قبل اس نے ڈنمارک کے اخبارات میں شائع ہونے والے کارٹون کو ویب سائیٹ پر جاری کیا۔حضرت خلیفۃ اسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ اس کی اس ناپاک حرکت پر بھی مرد خدا بن کر سامنے آئے اور اپنے خطبہ جمعہ 29 فروری 2008 ء میں اس حوالہ سے تنبیہ کرتے ہوئے فرمایا۔گزشتہ دنوں ہالینڈ کے ممبر پارلیمنٹ جو اپنی پارٹی بنارہے ہیں، ان کو ان کی پارٹی سے صرف اس وجہ سے نکال دیا گیا کہ ان میں مسلمانوں کے خلاف بڑی شدت پسندی تھی۔اور اسلام کے خلاف یہ بڑے گرمجوش ہیں۔انہوں نے پھر ایک بیان دیا جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات مبارک کے بارے میں تھا۔بڑا توہین آمیز بیان تھا۔دُہرانے کی ضرورت نہیں۔قرآن کریم کے بارے میں نہایت نامناسب اور توہین آمیز بیان دیا۔اور یہ اسلام دشمنی میں اس حد تک بڑھے ہوئے ہیں کہ جو ڈنمارک کے کارٹون چھپے ان کو اپنی ویب سائٹ پر لگایا اور پھر اس کی بڑی تعریف کی۔بہر حال اللہ تعالیٰ خود ان سے نپٹے گا۔قرآن کریم کے بارے میں جو بیان ہے اس میں لکھتے ہیں کہ (رپورٹ جو منگوائی تھی یہ اس کا ترجمہ ہے ) قرآن مجید دہشت گردی کی تعلیم دیتا ہے۔اس لئے اس پر پابندی لگانی چاہئے اور نعوذ باللہ آدھا قرآن پھاڑ کر پھینک دینا چاہئے۔اس وقت یہ شخص قرآن کے خلاف فلم بھی بنا رہا ہے۔پہلے ان کا ریلیز کرنے کا ارادہ تھا فی الحال نہیں کر سکے۔بہت ساری مسلمان تنظیمیں حکومت کو لکھ بھی رہی ہیں اور جماعت بھی لکھ رہی ہے۔فلم کا نام انہوں نے فتنہ رکھا ہے۔کسی نے ان سے پوچھا کہ تم اس میں دکھاؤ گے کیا ؟ تو کہتے ہیں کہ قرآن کا یہ حکم دکھاؤں گا کہ جب کافروں سے میدان جنگ میں ملو تو گردنیں کاٹو۔اب جو حملہ آور ہو گا تو بہر حال دفاع کے لئے جنگ تو ہوگی۔اور پھر یہ کہتے ہیں کہ دکھاؤں گا کہ عراق اور افغانستان میں اغوا کے بعد سر قلم کئے جاتے ہیں۔بہر حال