ناموسِ رسالت ؐ پر حملوں کا دفاع

Page 366 of 516

ناموسِ رسالت ؐ پر حملوں کا دفاع — Page 366

366 اسلام دین فطرت ہے اسلام دین فطرت ہے۔اس نے یہ تعلیم تو یقینا نہیں دی کہ اگر تمہارے ایک گال پر کوئی تھپڑ مارے تو دوسرا بھی آگے کر دو۔جن کو تعلیم دی گئی ہے وہ بتائیں کہ کس حد تک اس پر عمل کر رہے ہیں۔ان کی تعلیم کے یہی سقم ہیں جنہوں نے اس زمانے میں عیسائیوں کو عیسائیت سے دور کر دیا ہے۔اتوار کے اتوار جو ایک ہفتے کے بعد چرچ میں جانا ہوتا ہے اس میں بھی اب کوئی نہیں جاتا سوائے بوڑھوں اور بوڑھیوں کے۔چرچوں کو انہوں نے دوسرے فنکشنز کے لئے کرائے پر دینا شروع کر دیا ہے۔مغربی دنیا میں بے شمار جگہوں پر چرچوں پر For Sale کے بورڈ لگے ہوئے ہیں۔عیسائی مسیح کو خدا ماننے کو تیار نہیں امریکہ کے ایک پروفیسر ایڈون لوئیس (Edwin Lewis) نے لکھا کہ بیسویں صدی کے لوگ مسیح کو خدا ماننے کے لئے تیار نہیں۔پھر سینٹ جونز کالج آکسفورڈ کے پریذیڈنٹ سرسائزل لکھتے ہیں کہ یہ بات ہمیشہ یاد رکھنی چاہئے کہ یورپ اور امریکہ کے مردوں اور عورتوں کا ایک بڑا حصہ اب عیسائی نہیں رہا۔اور شاید یہ کہنا بھی صحیح ہوگا کہ ان کی اکثریت اب ایسی ہے۔اسی طرح افریقہ کے بارہ میں ان لوگوں کے مختلف بیانات ہیں، خود تسلیم کرتے ہیں کہ یہ تعلیم اب ختم ہو رہی ہے تو ان کو پتہ ہے اس لئے ایک ہی حل رہ گیا کہ اسلام کے خلاف غلط قسم کے ہتھکنڈے استعمال کئے جائیں۔عیسائیوں کے نزدیک جبر کا نظریہ جبر کے بارہ میں اسلام کا جو نظریہ غیر مسلم پیش کرتے ہیں اس کی کیا حقیقت ہے؟ کہتے ہیں کہ قیصر کو قرآن کے احکامات کا علم تھا۔تو دیکھ لیں قرآن کیا کہتا ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وَ قُلِ الْحَقُّ مِنْ رَّبِّكُمْ فَمَنْ شَاءَ فَلْيُؤْمِنْ وَمَنْ شَاءَ فَلْيَكْفُر (الکہف: 30) اللہ تعالیٰ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ اعلان کروا دیا کہ تم دنیا کو بتا دو کہ اسلام حق ہے اور تمہارے رب کی طرف سے ہے۔پس جو چاہے اس پر ایمان لائے اور جو چاہے انکار کر دے کیونکہ لَا إِكْرَاهَ فِي الدِّين (البقرہ: 257) کا حکم ہے۔پھر اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے قُلْ يَا يُّهَا النَّاسُ قَدْ جَاءَ كُمُ الْحَقُّ مِنْ رَّبِّكُمْ ، فَمَنِ اهْتَدَى فَإِنَّمَا يَهْتَدِي لِنَفْسِهِ ۚ وَمَنْ ضَلَّ فَإِنَّمَا يَضِلُّ عَلَيْهَا ۚ وَمَا أَنَا عَلَيْكُمْ بِوَكِيلِ (یونس: 109 ) یعنی اے رسول ! تو لوگوں سے کہہ دے کہ تمہارے پاس تمہارے رب کی طرف سے حق آیا ہے پس جو شخص ہدایت کو قبول کرے گا اس کا فائدہ اسی کے نفس کو ہو گا اور جو غلط راستے پر چلے گا اس کا وبال بھی اس کی جان پر ہے۔میں کوئی تمہاری ہدایت کا ذمہ دار نہیں ہوں۔اس کا عملی نمونہ بھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے دکھایا۔چنانچہ جب بنو نضیر کو اپنی بعض زیادتیوں اور حرکتوں کی سے جلاوطنی کی سزاملی تو انصار نے اپنی اولا دکو جو انصار نے پیدائش کے وقت بنونضیر کو دے دی تھی، ان سے واپس لینا چاہا تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ نہیں جو تم دے چکے وہ دے چکے اب دین کے معاملے میں کوئی جبر نہیں، یہ اب ان کے پاس ہی رہیں گے۔