ناموسِ رسالت ؐ پر حملوں کا دفاع — Page 364
364 لیکچر میں ایک نکتے پر بات کرنا چاہوں گا اور وہ یہ کہ اس میں قیصر جہاد کا ذکر کرتا ہے اور قیصر کو یقینا علم تھا کہ مذہب کے معاملے میں اسلام میں جبر نہیں ہے۔سورۃ بقرہ کی آیت 256 کا حوالہ دے رہے ہیں۔آگے کہتے ہیں قیصر یقیناً قرآن میں مقدس جنگ یا جہاد سے متعلق بعد کی تعلیمات سے بھی واقف تھا۔قرآن میں اس حوالے سے جو تفصیلات درج ہیں مثلاً اہل کتاب سے اور کفار سے مختلف قسم کا سلوک کیا جانا چاہئے ( یہ انہوں نے اپنی طرف سے حوالہ دے دیا ہے ) اور یہ کہتے ہیں کہ قیصر حیران کن حرش الفاظ میں اپنے شریک گفتگو سے بنیادی سوال کرتا ہے اور اس پر مزید کہتا ہے کہ مذہب اور جبر کا آپس میں کیا تعلق ہے۔پھر کہتے ہیں کہ مجھے دکھاؤ کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کون سی نئی چیز لے کر آئے ہیں۔تمہیں صرف بُری اور غیر انسانی تعلیمات ہی ملی ہیں جس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ تعلیم دی کہ ان کے لائے ہوئے مذہب کو تلوار کے زور سے پھیلایا جائے۔انا للہ۔اس کے بعد کہتے ہیں قیصر تفصیل سے بیان کرتا ہے کہ کیوں مذہب کو طاقت کے زور سے پھیلانا عقل کے خلاف ہے۔یہ تعلیم خدا کی ذات اور روح کی ماہیت سے متصادم ہے۔کہتا ہے کہ خدا کو خونریزی پسند نہیں اور عقل و عمل خدا کی ذات سے متصادم ہے۔ایمان روح کا پھل ہے جسم کا نہیں۔پھر آگے کہتے ہیں کہ قیصر جس کی تربیت یونانی فلسفے کے تحت ہوئی تھی اس کے لئے مذکورہ بالا جملہ ایک واضح حقیقت ہے جب کہ اسلامی تعلیم کے مطابق خدا ایک مطلقاً ماورائیت کا حامل وجود ہے اور کسی ارضی کیٹیگری (Category) کا پابند نہیں حتی کہ معقولیت کا بھی نہیں۔اور پھر آگے فرانسیسی ماہر اسلامیات کے حوالے سے ابن حزم کی ایک بات quote کی ہے کہ کوئی شے خدا کو ہم پر سچ ظاہر کرنے پر مجبور نہیں کرسکتی۔اگر وہ چاہے تو انسان کو بت پرستی بھی کرنی پڑے گی۔پتہ نہیں ابن حزم نے کہا بھی تھا کہ نہیں، کوئی حوالہ آگے نہیں ہے )۔پھر وہ لکھتے ہیں کہ کیا یہ عقیدہ کہ خدا خلاف عقل کام نہیں کر سکتا یہ یونانی عقیدہ ہے یا یہ ازلی اور فی ذاتہ ایک حقیقت ہے۔میرے خیال میں یہاں یونانی فکر کی یا خدا پر ایسے ایمان کی جو بائبل پر مبنی ہو آپس میں گہری مطابقت نظر آتی ہے۔(خیر باقی تو لمبالیکچر ہے)۔پوپ کے لیکچر کا جواب تیار کیا جائے گا اس میں جیسا کہ میں نے کہا کہ ایک تو خود ہی اس بات کو تسلیم کر رہے ہیں کہ قیصر کے اپنے الفاظ فارسی عالم کے جوابات کے مقابلے میں مفصل ہیں اور جس عیسائی نے اپنی یہ داستان لکھی ہے، ظاہر ہے کہ اس نے اپنی بڑائی ظاہر کرنے کیلئے اپنی دلیلوں کو مضبوط کرنا تھا، دوسری طرف کی دلیلیں تو دی نہیں گئیں، یقیناً انصاف سے کام نہیں لیا گیا ہو گا۔بہر حال یہ جو کچھ بھی تھا ، ہم مسلمان کیا سمجھتے ہیں، ہم احمدی کیا سمجھتے ہیں اس بارہ میں میں قرآن اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اسوہ سے مختصر بیان کرتا ہوں۔زیادہ تو بیان نہیں ہو سکتا لیکن پوپ کیلئے ان سوالوں کے انشاء اللہ جوابات تیار کئے جائیں گے اور انہیں پہنچانے کی کوشش بھی کی جائے گی تا کہ وہ اسلام کی صحیح تعلیم سے اگر ابھی تک