ناموسِ رسالت ؐ پر حملوں کا دفاع — Page 362
362 جبکہ پوپ نے اس گفتگو کا کوئی حوالہ نہیں دیا۔اور تاریخ سے واقفیت رکھنے والے بخوبی جانتے ہیں کہ روم کے پوپ نے اس واقعہ کا ذکر کر کے انصاف کی دھجیاں بکھیری ہیں کیونکہ بازنطینی دور حکمرانی میں عقائد کو طاقت ، دھمکیوں اور ہتھیاروں کے زور سے تو کیتھولک عقیدہ کے حامل افراد نے پھیلایا تھا۔4th Catholic Crusade جو کہ 1204 ء میں شروع ہوئے اور 1453ء میں قسطنطنیہ کے قبضہ پر منتج ہوئے اس سارے عرصہ میں کیتھولک عیسائیوں نے عقائد بدلنے کے لئے سارے حربے استعمال کئے۔یہ کیتھولک عیسائی ہی تھے جو فلسطین کی طرف ہجرت کرنے والے دیگر عیسائیوں اور یہودیوں کو زندہ جلا دیا کرتے تھے۔اور پھر کیتھولک عیسائیوں کی طرف سے مسلمانوں کی نسل کشی کی گئی تھی۔یہ ساری تفصیلات Sir Steven Runcimans History Of" "Crusade میں درج ہیں۔اپنے خطاب میں پوپ نے اس امر سے اختلاف کیا ہے کہ مذہب اسلام میں خدا تعالیٰ کے احکامات مکمل اور فائنل حالت میں نازل ہوئے ہیں جو کہ جبرائیل علیہ السلام حضرت محمد پر وحی کے ذریعہ یا کشفی حالت میں لایا کرتے تھے۔لیکن حیران کن بات یہ ہے کہ جب وہ پوپ بائبل میں خدا کے تصور یا احکامات کا حوالہ دیتے ہیں تو وہاں Apostle John کا حوالہ دیتے ہوئے اس چیز کو تسلیم کرتے ہیں کہ St۔Paul کو بھی وجدان، کشف یا خواب کی حالت میں یہ احکامات دیئے گئے تھے کہ وہ حضرت عیسی کی نیابت میں عیسائیت کی تعلیم کو عام کریں۔اس طرح پوپ نے اپنے خطاب میں حضرت محمدصلی اللہ علیہ وسلم کو یہ الزام دیا ہے کہ "مذہب کے معاملہ میں جبر جائز نہیں۔یہ اس وقت کہا گیا جبکہ محمد خود بھی اور اسلام بھی کمزور تھے "لیکن اپنے خطاب میں کوئی ایسی دلیل پیش تفصیلات ما خوذ از مضمون زبیر خلیل احمد خان جرمنی از الفضل انٹر نیشنل 20 اکتوبر 2006ء) نہیں کی۔حضرت خلیفہ مسیح الامس کی طرف سے فوری ردعمل حضرت خلیفۃ اسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ نے تاریخ عالم کے اس سیاہ واقعہ پر اپنا فورار دعمل ظاہر فرمایا اور پوپ کے لیکچر کے معابعد 15 ستمبر 2006 ء کو بیت الفتوح لندن میں ایک خطبہ ارشاد فرمایا اور پوپ صاحب کے بیانات کی سخت الفاظ میں تردید فرمائی۔آپ نے فرمایا۔" کل ایک خبر آئی تھی کہ پوپ نے جرمنی میں ایک یونیورسٹی میں لیکچر کے دوران بعض اسلامی تعلیمات کا ذکر کیا اور قرآن کریم اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں کسی دوسرے لکھنے والے کے حوالے سے ایسی باتیں کی ہیں جن کا اسلام سے دُور کا بھی واسطہ نہیں ہے۔یہ ان کا ایک طریقہ ہے ، بڑی ہوشیاری سے دوسرے کا حوالہ دے کر اپنی جان بھی بچانے کی کوشش کرتے ہیں اور بات بھی کہہ جاتے ہیں۔پوپ صاحب نے بعض ایسی باتیں کہہ کر قرآن کریم ، اسلام اور بانی اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں ایک ایسا غلط تاثر پیدا کرنے کی کوشش کی ہے جس سے مسلمانوں میں تو ایک بے چینی پیدا ہو گئی ہوگی، اِس سے اُن کے اسلام کے خلاف اپنے دلی جذبات کا بھی اظہار ہو