ناموسِ رسالت ؐ پر حملوں کا دفاع — Page 361
361 تعالیٰ اسی دنیا میں بھی سزا دیتا ہے۔لیکن جب شیطان نے کہا تھا کہ میں انسانوں کو ورغلانے کے لئے ان کے آگے سے بھی اور ان کے پیچھے سے بھی اور ان کے دائیں سے بھی اور ان کے بائیں سے بھی آؤں گا تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا تھا کہ میں ان سب کو پھر جہنم سے بھر دوں گا جو تیری اتباع کرنے والے ہیں۔گو بعض لوگوں کو ان کے اعمال اس دنیا میں ہی جہنم کا نمونہ دکھا دیتے ہیں لیکن۔۔اس رویے کو بدلو جو آ نحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف تم نے اپنایا ہوا ہے۔اپنی اصلاح کر لو ورنہ اگر اللہ تعالیٰ اپنا حساب لینا شروع کر دے اور فوری سزا شروع کر دے تو چندلمحوں میں تمہیں ختم کر سکتا ہے۔اور زمین و آسمان کو اس نے روک رکھا ہے۔اگر وہ مل جائیں تو پھر قیامت کا نمونہ ہوگا۔پس وہ خدا جس نے زمین و آسمان کو پیدا کیا ہے جو فوری بدلے نہیں لیتا اور بخشنے والا بھی ہے اس کی طرف جھکو اور اپنی حدود کے اندر رہو۔یہ جو پہلی آیت میں نے پڑھی تھی (سورۃ الفاطر : 46 مراد ہے۔ناقل ) اور ترتیب کے لحاظ سے وہ آخری آیت ہے۔اس میں بھی اس بات کا اعادہ کیا گیا ہے کہ اگر تمہاری ان حرکتوں کی وجہ سے اللہ تعالیٰ فوری مؤاخذہ کرتا تو نہ کوئی جنگلی جانور باقی رہتا ، نہ کوئی گھر یلو جانور باقی رہتا ، نہ کوئی پرندہ باقی رہتا۔یعنی پھر یہاں دوبارہ اس بات کا اظہار فرمایا کہ تمہاری زندگی کی بقا جن زندگیوں سے وابستہ ہے اگر صرف انہی کا خاتمہ اللہ تعالی کر دے تو تمہاری زندگی اذیت ناک ہو جائے گی۔اور اس عذاب میں مبتلا ہو کر ختم ہو جاؤ گے۔" خطبات مسرور جلد 8 صفحه 110-113) جرمنی میں پوپ کا قرآن کریم ، اسلام اور بانی اسلام کے خلاف ایک لیکچر اور جماعت کی طرف سے اس کا دفاع ستمبر 2006 ء میں روم کے کیتھولک پوپ Joseph Ratzinger نے اپنے دورہ جرمنی کے دوران ریکسن برگ یونیورسٹی میں ایک لیکچر دیا۔جو مغرب اور اسلام کے درمیان تناؤ کچھاؤ میں اضافہ کا موجب بنا۔پوپ نے اسلام کے خلاف جہاں بہت سی باتیں کیں وہاں بالخصوص اسلام کے خدا کے تصور کو غلط رنگ میں پیش کیا۔پوپ نے اپنے لیکچر کے آغاز میں چودھویں صدی عیسوی کے بازنطینی بادشاہ مینوئیل دوم کی ایک فارسی عالم سے یہ گفتگو quote کی ہے کہ محمد کون سی نئی چیز لے آیا ہے۔دیکھنے والوں کو صرف بدی اور انسانیت سوز امور ہی ملیں گے جیسے کہ اپنے عقائد کو تلوار کے ذریعہ پھیلانے کا حکم وغیرہ۔اپنی گفتگو کو جاذب نظر بنانے اور اس میں مزید نکھار پیدا کرنے کے لئے بادشاہ نے اپنی درج شدہ گفتگو میں ان الفاظ کا مزید اضافہ کر دیا کہ " کسی بھی معقول ذی روح کو کسی بھی عقیدہ کے لئے قائل کرنے کے لئے طاقتور ہاتھ کی ضرورت ہوتی ہے اور نہ ہی کسی خوفناک ہتھیار کی اور نہ کسی کو موت کی دھمکیوں سے عقیدہ اپنانے کے لئے قائل کیا جا سکتا ہے"