ناموسِ رسالت ؐ پر حملوں کا دفاع — Page 346
346 کے، ان کے جذبات کا خیال نہ رکھا جائے۔قرآن کریم کی اس گواہی کے باوجود کہ آپ تمام رسولوں سے افضل ہیں، آپ نے یہ گوارا نہ کیا کہ انبیاء کے مقابلہ کی وجہ سے فضا کو مکدر کیا جائے۔آپ نے اس یہودی کی بات سن کر مسلمان کی ہی سرزنش کی کہ تم لوگ اپنی لڑائیوں میں انبیاء کونہ لایا کرو۔ٹھیک ہے تمہارے نزدیک میں تمام رسولوں سے افضل ہوں۔اللہ تعالیٰ بھی اس کی گواہی دے رہا ہے لیکن ہماری حکومت میں ایک شخص کی دلآزاری اس لئے نہیں ہونی چاہئے کہ اس کے نبی کو کسی نے کچھ کہا ہے۔اس کی میں اجازت نہیں دے سکتا۔میرا احترام کرنے کیلئے تمہیں دوسرے انبیاء کا بھی احترام کرنا ہوگا۔تو یہ تھے آپ کے انصاف اور آزادی اظہار کے معیار جو اپنوں، غیروں سب کا خیال رکھنے کے لئے آپ نے قائم فرمائے تھے۔بلکہ بعض اوقات غیروں کے جذبات کا زیادہ خیال رکھا جاتا تھا۔دوسرے مذاہب اور انسانیت کا احترام آپ کے انسانی اقدار قائم کرنے اور آپ کی رواداری کی ایک اور مثال ہے۔روایت میں آتا ہے عبدالرحمن بن ابی لیلہ بیان کرتے ہیں کہ سہل بن حنیف اور قیس بن سعد قادسیہ کے مقام پر بیٹھے ہوئے تھے کہ ان کے پاس سے ایک جنازہ گزرا۔تو وہ دونوں کھڑے ہو گئے۔جب ان کو بتایا گیا کہ یہ ذمیوں میں سے ہے تو دونوں نے کہا کہ ایک دفعہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے ایک جنازہ گزرا تو آپ احتراماً کھڑے ہو گئے۔آپ کو بتایا گیا کہ یہ تو ایک یہودی کا جنازہ ہے۔اس پر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اکیست نفسنا کیا وہ انسان نہیں ہے۔(بخاری کتاب الجنائز باب من قام لجنازة يهودى حديث نمبر (1312) پس یہ احترام ہے دوسرے مذہب کا بھی اور انسانیت کا بھی۔یہ اظہار اور یہ نمونے ہیں جن سے مذہبی رواداری کی فضا پیدا ہوتی ہے۔یہ اظہار ہی ہیں جن سے ایک دوسرے کے لئے نرم جذبات پیدا ہوتے ہیں اور یہ جذبات ہی ہیں جن سے پیار، محبت اور امن کی فضا پیدا ہوتی ہے۔نہ کہ آجکل کی دنیا داروں کے عمل کی طرح کہ سوائے نفرتوں کی فضا پیدا کرنے کے اور کچھ نہیں۔پھر ایک روایت میں آتا ہے فتح خیبر کے دوران تو رات کے بعض نسخے مسلمانوں کو ملے۔یہودی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے کہ ہماری کتاب مقدس ہمیں واپس کی جائے اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کو حکم دیا کہ یہود کی مذہبی کتابیں ان کو واپس کر دو۔(السيرة الحلبية باب ذكر مغازيه ذكر غزوه خیبر جلد 3 صفحه 49) باوجود اس کے کہ یہودیوں کے غلط رویے کی وجہ سے ان کو سزائیں مل رہی تھیں آپ نے یہ برداشت نہیں فرمایا کہ دشمن سے بھی ایسا سلوک کیا جائے جس سے اس کے مذہبی جذبات کو ٹھیس پہنچے۔