ناموسِ رسالت ؐ پر حملوں کا دفاع — Page 345
345 صلی اللہ علیہ وسلم کا غلام ہو چکا ہوں آپ سے جدا ہونے کا مجھے سوال نہیں۔ماں باپ سے زیادہ محبت اب مجھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے ہے۔زید کے باپ اور چچا وغیرہ نے بڑا زور دیا لیکن انہوں نے انکار کر دیا۔زید کی اس محبت کو دیکھ کر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ زید آزاد تو پہلے ہی تھا مگر آج سے یہ میرا بیٹا ہے۔اس صورتحال کو دیکھ کر پھر زید کے باپ اور چا وہاں سے اپنے وطن واپس چلے گئے اور پھر زید ہمیشہ وہیں رہے۔نبوت کے بعد آزادی تعمیر و مذہب کو چار چاند لگ گئے (دیباچہ تفسیر القرآن صفحه 112) تو نبوت کے بعد تو آپ کے ان آزادی کے معیاروں کو چار چاند لگ گئے تھے۔اب تو آپ کی نیک فطرت کے ساتھ آپ پر اُترنے والی شریعت کا بھی حکم تھا کہ غلاموں کو ان کے حقوق دو۔اگر نہیں دے سکتے تو آزاد کر دو۔چنانچہ ایک روایت میں آتا ہے کہ ایک صحابی اپنے غلام کو مار رہے تھے تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے دیکھا اور بڑے غصے کا اظہار فرمایا۔اس پر ان صحابی نے اس غلام کو آزاد کر دیا۔کہا کہ میں ان کو آزاد کرتا ہوں۔تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم نہ آزاد کرتے تو اللہ تعالیٰ کی پکڑ کے نیچے آتے۔(مسلم کتاب الايمان والنذر باب صحبة المماليك و كفارة۔۔۔۔۔حديث نمبر 4197) تو اب دیکھیں یہ ہے آزادی۔پھر دوسرے مذہب کے لوگوں کیلئے اپنی اظہار رائے کا حق اور آزادی کی بھی ایک مثال دیکھیں۔اپنی حکومت میں جبکہ آپ کی حکومت مدینے میں قائم ہو چکی تھی اس وقت اس آزادی کا نمونہ ملتا ہے۔ایک روایت میں آتا ہے، حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ دو آدمی آپس میں گالی گلوچ کرنے لگے۔ایک مسلمان تھا اور دوسرا یہودی۔مسلمان نے کہا اس ذات کی قسم جس نے محمدصلی اللہ علیہ وسلم کو تمام جہانوں پر منتخب کر کے فضیلت عطا کی۔اس پر یہودی نے کہا اس ذات کی قسم جس نے موسیٰ کو تمام جہانوں پر فضیلت دی ہے اور چن لیا۔اس پر مسلمان نے ہاتھ اٹھایا اور یہودی کو تھپڑ مار دیا۔یہودی شکایت لے کر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر ہوا جس پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمان سے تفصیل پوچھی اور پھر فرمایا: لَا تُخَيَّرُونى عَلَى مُوسی کہ مجھے موسیٰ پر فضیلت نہ دو۔(بخاری کتاب الخصومات باب ما يذكر في الأشخاص والخصومة بين المسلم واليهود حديث نمبر 2411) تو یہ تھا آپ کا معیار آزادی، آزادی مذہب اور ضمیر، کہ اپنی حکومت ہے، مدینہ ہجرت کے بعد آپ نے مدینہ کے قبائل اور یہودیوں سے امن وامان کی فضا قائم رکھنے کیلئے ایک معاہدہ کیا تھا جس کی رو سے مسلمانوں کی اکثریت ہونے کی وجہ سے یا مسلمانوں کے ساتھ جو لوگ مل گئے تھے، وہ مسلمان نہیں بھی ہوئے تھے ان کی وجہ سے حکومت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ میں تھی۔لیکن اس حکومت کا یہ مطلب نہیں تھا کہ دوسری رعایا، رعایا کے دوسرے لوگوں