ناموسِ رسالت ؐ پر حملوں کا دفاع

Page xii of 516

ناموسِ رسالت ؐ پر حملوں کا دفاع — Page xii

xii اللہ علیہ وسلم کو بشارتیں دی تھیں جو اپنے وعدوں کا پکا اور سچا ہے اور متصرفانہ قدرتوں کا مالک ہے۔اس نے مہدی علیہ السلام کو بھیج دیا مہدی اور مسیح علیہ السلام آگئے اور یہ جو بپھری ہوئی طوفانی موجوں کی طرح عیسائی پادری اسلام پر حملہ آور ہورہے تھے کہاں گئیں وہ موجیں اور کہاں گئیں ان کی شوخیاں؟ وہ پیچھے ہٹے اور پسپا ہو گئے لیکن بہتوں کو ابھی یہ چیز نظر نہیں آرہی کیونکہ ابھی وہ آخری فتح مہدی کو اور آپ کی فوج کو اور محمد رسول اللہ صلے اللہ علیہ وسلم کے غلاموں کو حاصل نہیں ہوئی۔جو مقدر ہے جس کے نتیجہ میں اسلام کو آخری غلبہ حاصل ہونا ہے، جس کے نتیجہ میں اسلام گرہ ارض کو اپنی لپیٹ میں لینے والا ہے اور ساری دنیا میں پھیل جانے والا ہے۔وہ مہدی علیہ السلام آیا اور جس قسم کے شدید حملے ہورہے تھے اس نسبت کے ساتھ بڑی تعداد میں بڑی گہرائیوں اور بڑی رفعتوں والے بطونِ قرآنی آپ نے دنیا کے سامنے پیش کئے مثلاً حضرت مسیح موعود علیہ السلام پر ایک عیسائی نے یہ سوال کیا کہ جب آپ کے نزدیک تو رات بھی خدا تعالیٰ کی الہامی کتاب ہے تو اس الہامی کتاب کے بعد قرآن کریم کی کیا ضرورت تھی؟ اس کا جواب آپ نے بڑے لطیف رنگ میں دیا۔میں مختصراً اس وقت اپنے الفاظ میں بیان کروں گا۔آپ نے فرمایا تم مجھ سے یہ پوچھتے ہو کہ تو رات کے ہوتے ہوئے قرآن عظیم کی کیا ضرورت ہے اور میں تمہیں یہ بتاتا ہوں کہ قرآن عظیم اپنی پوری تفصیل اور شان کے ساتھ آخری کامل اور مکمل ہدایت اور شریعت ہے۔اس کے شروع میں قرآن کریم کا ایک خلاصہ سورۃ فاتحہ کی شکل میں جو چھوٹی سی سورۃ ہے اور صرف سات آیات پر مشتمل ہے۔سورۃ فاتحہ میں جو رموز و اسرار روحانی بیان ہوئے اگر تم اپنی تو رات کی ساری کتابوں میں سے وہ نکال دو تو ہم سمجھیں گے کہ تمہارے پاس کچھ ہے لیکن اگر تم قرآن کریم کی ابتدائی سورۃ کی سات آیات کے معانی و روحانی خزائن جو اس میں بیان ہوئے ہیں تو رات میں سے نہ نکال سکو تو تمہارے منہ سے یہ سوال نہیں سجتا کہ پھر قرآن مجید کی ضرورت کیا ہے۔۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے پھر سورۃ فاتحہ کی تفسیر لکھی اور مختلف پہلوؤں سے لکھی ، مختلف کتب میں لکھی۔اب وہ تغییر جس کے متعلق یہ چیلنج تھا کہ اپنی ساری تو رات میں سے اس کے معانی کے برابر بھی نکال دو تو ہم سمجھیں گے کہ تمہارے ہاتھ میں کچھ ہے جو چیلنج انہیں منظور نہیں ہوا۔اتنی زبر دست جو تفسیر لکھی گئی تو وہ سارے بطونِ قرآن تھے جو ظاہر ہوئے کیونکہ جو اعتراضات آج کی عیسائی دنیا کر رہی تھی وہ پرانے نہیں تھے یا ان میں سے اکثر پرانے نہیں تھے۔جو پرانے تھے ان کے تو جواب پہلے آچکے تھے۔" خطبات ناصر جلد 5 صفحہ 307-309)