ناموسِ رسالت ؐ پر حملوں کا دفاع

Page xi of 516

ناموسِ رسالت ؐ پر حملوں کا دفاع — Page xi

xi اسلام کے خلاف اتنے حملے اس سے قبل نھیں ھوئے حضرت خلیفہ اسیح الثالث رحمہ اللہ خطبہ جمعہ 2 نومبر 1973ء میں فرماتے ہیں۔جس زمانہ کے متعلق نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں بتایا تھا کہ اسلام کی ،حق وصداقت کی ، شیطانی قوتوں سے آخری جنگ ہوگی اور آپ تاریخ انسانی پر نظر ڈالیں۔مذہب پر محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے قبل اور مذہب اسلام پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کے بعد اتنے حملے اس کثرت کے ساتھ اس شدت کے ساتھ ، اس قسم کے دجل کے ساتھ اور ظاہر میں ملمع چڑھا کر اس قسم کے مؤثر بنا کر اعتراضات نہیں ہوئے جتنے آج ہورہے ہیں۔دشمن کا حملہ کتاب مبین سے تعلق رکھنے والا بھی ہے یعنی جو پہلے اعتراضات ہیں وہ بھی دہرائے جارہے ہیں اور نئی روشنی میں بدلے ہوئے نئے حالات میں نئے اعتراضات بھی کئے جارہے ہیں۔اتناز بر دست حملہ اسلام پر ہے کہ اس سے قبل کے زمانہ میں اس کی مثال نہیں ملتی۔نہ مستقبل میں اس قدر شدید حملہ کا تصور کیا جاسکتا ہے کیونکہ حملہ اپنی انتہا کو پہنچ گیا۔اتنا شدید حملہ کہ بعثت مہدی علیہ السلام سے چند سال قبل ہندوستان کے پادریوں نے یہ اعلان کیا کہ ایسا زمانہ آنے والا ہے اور خداوند یسوع مسیح کی ایسی برکتیں اس ملک ہند میں پھیلنے والی ہیں کہ اس ملک میں اگر کسی کے دل میں یہ خواہش پیدا ہوئی کہ وہ کسی مسلمان کا چہرہ دیکھ سکے تو اس کی یہ خواہش پوری نہیں ہو سکے گی کیونکہ ایک بھی مسلمان نہیں رہے گا۔یہ شدت تھی اس حملہ میں۔پھر ہندوستان سے باہر والوں نے یہاں تک اعلان کیا کہ خانہ کعبہ پر (نعوذ باللہ ) خداوند یسوع مسیح کا جھنڈا لہرائے گا ، اس قسم کے شدید حملے تھے ان حملوں کی شدت بتا رہی تھی کہ پیشگوئی میں جو یہ کہا گیا تھا کہ اس آخری جنگ کو فاتح کی حیثیت میں امت محمدیہ کا جرنیل محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا روحانی فرزند جود نیا میں بھیجا جائے گا وہ مہدی اور مسیح کے لقب سے آئے گا۔اسلام پر حملے بتارہے ہیں کہ مسیح و مہدی کی ضرورت ہے۔اسلام پر اتنا شدید حملہ ہوا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے کہا کہ میں نے تین ہزار نئے اعتراضات عیسائیوں کی طرف سے اسلام پر کئے جانے والے جمع کئے ہیں پھر آپ نے کہیں اعتراض کا ذکر کر کے اور کہیں ذکر کئے بغیر اسلام کی تعلیم اس طرح پیش کی کہ وہ اعتراض دور کرتی چلی گئی۔بہر حال میں اس وقت یہاں اپنے مضمون کے سلسلہ میں یہ بتارہا ہوں کہ اتنا شدید حملہ اسلام پر جو ہواوہ پکار رہا تھا اور آسمان اور زمین پکار رہی تھی کہ اگر اسلام نے دنیا میں قائم رہنا ہے تو مہدی کو اس وقت ہی آنا چاہئے۔پھر خدا تعالیٰ جس نے نبی اکرم صلی